بلاگ نامہ

اردو بلاگ پر قارئین کم کیوں ؟ – حصہ اول

مجھے ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کا نام ” اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات “ ہے۔یہ تحریر م بلال م کی تحریر کردہ ہے۔ اس تحریر کے آخری حصہ میں انہوں نے ایک سوال پوچھا کہ ” آپ کی نظر میں اردو بلاگوں کے قارئین کم ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور ان کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ “۔اس سوال کے جواب کے لیئے انہوں نے ایک دو یا تین بلاگ کے بجائے مکمل اردو بلاگستان کو ٹیگ کرڈالا شاید یہی وجہ ہے کہ کسی نے توجہ کچھ خاص نہیں دی۔

اب آتے ہیں اس سوال کے جواب پر۔

قارئین کم ہونے کی وجوہات

قارئین ایک ایسی چیز ہیں جو اگر کسی ویب سائٹ ، بلاگ یا کسی اخبار وغیرہ کے کم ہوں یا نہ ہونے کے برابر ہوں تو وہ ویب سائٹ ، بلاگ یا اخبار بلکل پیچھے ہوجاتا ہے۔آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ اردو بلاگ پر قارئین کی تعداد کم ہے خاص طور پر نئے آنے والے بلاگ پر۔جبکہ انگریزی یا دیگربین الاقوامی زبانوں کے بلاگ پر قارئین کی تعداد بے شمار ہوتی ہے۔جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ جب آپ کوئی تحریر لکھ کر شائع کرتے ہیں تو آپ کو تقریباً 15 منٹ کے اندر 9 سے 10 تبصرہ موصول ہوجاتے ہیں بلکہ کچھ بلاگ پر تو 15 منٹ میں 20 تبصرے بھی موصول ہوتے ہیں ، لیکن یہ اردو بلاگرز کے بلاگ پر نہیں ہوتا۔اردو بلاگرز کو تحریر لکھے مہینہ گزر جاتا ہے لیکن ایک سے دو تبصرہ ہی موصول ہوتے ہیں ، یہ بات میں ان بلاگرز کے لیئے کہ رہا ہوں جو نئے ہیں اور مفت ڈومین یا کسی مفت سروس کو استعمال کر رہے ہیں۔دیگر بلاگرز جو مفت سروس استعمال نہیں کر رہے ان کے بلاگ پر ہر تحریر پر کم از کم 10 تبصرے ضرور ہوتے ہیں۔قارئین کم ہونے کی چند وجوہات یہ ہیں۔

  • اختلافات
  • اپنے سے کم تر جاننا
  • تحریر پڑھ کر تبصرہ نہ کرنا
  • تبصرہ فارم میں مسئلہ ہونا
  • سرچ انجن میں مناسب نتیجہ نہ ہونا
  • بلاگ کی تھیم کا مسئلہ
  • الفاظ کی غلط تلاش

اب آیئے ان وجوہات کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔

اختلافات

یہ ایک ایسا عمل ہے جو کسی دوست کو دشمن بناکر ہی چھوڑتا ہے۔اختلافات اردو بلاگرز کے درمینان خوب پائے جاتے ہیں خاص طور پر جو بلاگرز پرانے ہوچکے ہیں۔چند پرانے بلاگرز کے علاوہ نئے آنے والے بلاگرز کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔جب نئے بلاگرز تحریر لکھتے ہیں تو پرانے یہ جان کر کہ ” انہیں کیا معلوم “ تبصرہ نہیں کرتے بلکہ تحریر ہی نہیں پڑھتے۔تحریر کو نظر انداز کردیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ اس نئے بلاگر نے یہ تحریر کتنی محنت کے بعد تحریر کی ہوگی۔

اپنے سے کم تر جاننا

کچھ بلاگرز ہیں جو دیگر بلاگرز کو اپنے سے کم تر جانتے ہیں۔جب وہ بلاگرز کوئی معلوماتی تحریر یا کام کرتے ہیں پھر اسے تحریر کرتے ہیں تو یہ بلاگر جو اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں ، ان کے کام کو نہیں سراہتے جس کی وجہ سے وہ ایسی تحاریر لکھنا چھوڑ دیتا ہے۔

تحریر پڑھ کر تبصرہ نہ کرنا

بہت سارے بلاگرز اور دیگر افراد تحریر کو پڑھ کر تبصرہ نہیں کرتے۔ان کے نزدیک تبصرہ نہ کرنے کی وجہ کیا ہے یہ تو معلوم نہیں کیونکہ جو تبصرہ نہیں کرتے اس کا جواب بہتر وہی دے سکتے ہیں۔کچھ افراد کے نزدیک تبصرہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تبصرہ جب لکھا جارہا ہوتا ہے تو اس وقت اگر کوئی مسئلہ ہوجائے مثلاً بجلی وغیرہ چلی جائے تو ان کا تبصرہ محفوظ نہیں ہوتا اور نہ ہی یاد رہتا ہے کہ انہوں نے تبصرہ میں کیا تحریر کیا تھا۔ویسے میرے نزدیک یہ بات بہت اہم ہے۔اس بارے میں سوچنا چاہیئے اور اگر کوئی پلگ ان تیار ہوجائے تو بہترین ہے اس سے یہ مسئلہ تو دور ہوجائے گا۔

تبصرہ فارم میں مسئلہ ہونا

مختلف بلاگ پر یہ مسئلہ بہت ہے کہ اگر آپ تبصرہ کررہے ہیں تو جب آپ اسے شائع کرنے کے لیئے بٹن پر کلک کرتے ہیں تو مختلف مسائل آپ کے سامنے آجاتے ہیں۔یہ مسئلہ عام طور پر بلاگ اسپاٹ اور ورڈپریس ڈاٹ کام والے بلاگ پر نظر آتا ہے۔اس مسئلہ کو حل کرنے کے بارے میں حل تحریر کیا جائے تاکہ اس مسئلہ سے بھی نجات مل سکے۔

سرچ انجن میں مناسب نتیجہ نہ ہونا

یہ مسئلہ بہت اہم ہے۔جب آپ کوئی تحریر کسی مقصد کے بارے میں شائع کرتے ہیں یا کسی سافٹ ویئر کے بارے میں کوئی ٹیٹوریل تحریر کرتے ہیں تو آپ کو یہ مسئلہ اس وقت درپیش آتا ہے جب سرچ اجن میں آپ کے بلاگ کا لنک موجود نہیں ہوتا۔اس سلسلے میں آپ کو اپنے بلاگ کو سرچ انجن میں نمایاں دکھانے کے لیئے SEO سیکھنا ضروری ہے ، تاکہ آپ سرچ انجن میں اپنے بلاگ کے نتائج دکھا سکیں۔بلاگ اسپاٹ اور ورڈپریس ڈاٹ کام پر تو آپ کو اس مسئلہ سے سامنا بہت کم کرنا پڑتا ہے لیکن ذاتی ہوسٹنگ پر بلاگ والے اس مسئلہ سے دوچار ضرور ہوتے ہیں۔

بلاگ کی تھیم کا مسئلہ

جب کوئی بلاگر اردو بلاگستان کی دنیا میں آتا ہے تو وہ اپنے بلاگ کو بہتر دکھانے کے لیئے تھیم کی تلاش شروع کردیتا ہے لیکن اسے بے شمار تھیم کے درمیان کوئی تھیم اچھا نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے وہ روزانہ تھیم کی تلاش شروع کردیتا ہے۔اس طرح جب اسے تھیم ملتا ہے تو پھر اس کا دل بلاگنگ کرنے کو نہیں چاہتا۔اس سلسلے میں آپ کوئی مناسب اردو تھیم لگا دیں اپنے بلاگ پر اور زیادہ توجہ بلاگ کی تحاریر پر دیں۔جب آپ تحاریر پر توجہ دیں گے تو پھر آپ کو وقت کے ساتھ ساتھ کوئی تھیم بھی بہترین مل جائے گا۔

الفاظ کی غلط تلاش

آج کل اس مسئلہ میں تو تھوڑی بہتری نظر آرہی ہے۔لیکن پھر بھی یہ مسئلہ ابھی تک ہے۔جب کسی شخص کو کوئی مواد یا تحریر اردو میں درکار ہے تو وہ اسے سرچ انجن میں اردو میں نہیں لکھتا بلکہ رومن یا انگریزی میں لکھا اس کے آگے In Urdu شامل کردیتا ہے۔جس کے بعد اسے نتائج کم ہی ملتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو کچھ بھی نہیں مل پاتا۔

( جاری ہے )

اپڈیٹ بروز پیر 30 اپریل 2012:-

اس تحریر کا اگلا اور آخری حصہ پڑھنے کے لیئے ” اردو بلاگ پر قارئین کم کیوں ؟ – آخری حصہ “ ملاحظہ کریں۔

14 تبصرے برائے “اردو بلاگ پر قارئین کم کیوں ؟ – حصہ اول”

  1. اب کہ تبصرہ کرنا تو بنتا ہے نا بھائی۔۔۔ ورنہ پھر وہی بات کہ تحریر پڑھ کر تبصرہ نہیں‌کیا۔۔۔

    میں آپ کی تحریر سے متفق ہوں۔۔۔

  2. سعود says:

    بہت مناسب اور اور جامع۔

  3. علی says:

    بھائی میرے خیال میں تو ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ اردو بلاگ بلکہ بلاگ کس چڑیا کا نام ہے

    1. یہ وجہ اب بہت کم ہوتی جارہی ہے ۔ لیکن یہ ہم سب اردو بلاگرز کا فرض بنتا ہے کہ لوگوں کو اردو کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں یہ بتائیں کہ اردو لکھنا اور پڑھنا اب انٹرنیٹ پر بہت آسان ہے۔

  4. دوست says:

    میرا صرف ایک سوال ہے۔
    کیا تبصرہ ہونا ہی کسی بلاگ پرٹریفک کی نشانی ہے؟
    یا کسی بلاگر کے لیے ایک تحریر کے نیچے پچاس تبصروں کی لائن کامیابی کی نشانی ہے؟

    1. کسی بلاگ یا ویب سائٹ پر ٹریفک تو بہت آتی ہے لیکن اگر اس پر صارف کوئی کارکردگی نہیں دکھارہا ہے تو پھر ٹریفک کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور نہ تحریر لکھنے والے کو سراہا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی بلاگ کے نیچے تبصرے زیادہ ہوں یا فائدہ مند تبصرے ہوں تو وہ بلاگر اسے اپنی کامیابی سمجھ کر مزید تحاریر لکھنے کی جستجو کرتا ہے اور اس سے اردو زبان کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
      یہ باتیں میں اردو ویب سائٹ اور بلاگ وغیرہ کے بارے میں کہ رہا ہوں ورنہ انگریزی بلاگ پر تو صرف ٹریفک ہی درکار ہوتی ہے اور وہ اس سے اچھا خاصا منافع کما لیتے ہیں۔
      اس لیئے میرے نزدیک اردو بلاگ کی کامیابی تبصروں کے بعد ہی ہوتی ہے۔

  5. فہیم says:

    آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں بھائی

  6. میرے بلاگ پر تو خوب ٹریفک ہوتی ہے!!
    سپام فولڈر ہمیشہ ہاوس فل کا تختہ لگائے ہوتا ہے۔
    بات صرف اتنی ہے ،کہ ابھی انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کو ذرا “مزیدار قسم ” کی سائیٹ کی تلاش ہو تی ہے۔
    دو چار وڈیو اعلی قسم کے، فوٹو شوٹو لگانے شروع کر دیں ۔
    ریگولر وزیٹر ملنا شروع ہو جائیں گے۔
    آخر پاکستان ہر سال ٹاپ آف لسٹ ہوتا ہے ،”مزیدار قسم ” کی سائیٹ کا۔۔۔۔ہیں جی

    1. میں سمجھ گیا ” مزیدار قسم ” کی ویب سائٹ ؤغیرہ کو

  7. مریم says:

    i dont agree with you pleas visit these links
    http://www.google.com/trends/?q=اردو
    http://www.google.com/trends/?q=urdu
    Not doubt users are not looking for these specific words. But you can easily estimates the popularity of urdu as in general. I am sure trends are good and urdu will gain more popularity in comming years. You may laugh at me cause I am using english and not in roman or urdu. If you add urdu keyboard layout it will help alot

    wassalaam

    1. انشاءاللہ مستقبل میں اردو کی اہمیت کا اندازہ لوگوں کو ہوجائے گا۔پہلے تو میں آپ کے تبصرہ کو سپام سمجھا لیکن جب پڑھا تو خیال آیا کہ یہ سپام نہیں ہے ۔ کیونکہ مجھے اردو کی عادت پڑی ہوئی ہے ۔ اور میرے پاس زیادہ انگریزی تبصرے سپام ہی آتے ہیں جنہیں میں نظر انداز کردیتا ہوں ۔ لیکن آپ کے نام اور ای میل کی وجہ سے آپ کا تبصرہ محفوظ رہ گیا ۔ خیر میں نے کی بورڈ لگایا تھا لیکن تھیم کی مناسبت سے کی بورڈ درست نظر نہیں آرہا تھا جس کے بعد میں نے کی بورڈ ختم کردیا لیکن چلیں کوشش کروں گا کہ تھیم کی مناسبت سے بنا کر لگا دوں۔

  8. بھائی بالکل درست لکھا آپ نے

  9. بات آپکی مناسب ہے۔اگر بلاگرز یہ کوشش نہ کریں کہ وہ ہر جگہ اردو بلاگنگ کا ہی تذکرہ کرئیں تو لوگ کیسے جان سکتے ہیں،گویا ہمیں احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔

    دوسری بات کہ کیا تبصرئے ایک بلاگ کی کامیابی کی نشانی ہے۔ تو میں کہونگا کہ ایک بندے نے پُل بنایا ،اب لگ اس پر سے گذر رہے ہیں لیکن کوئی بھی اسکی حوصلہ افزائی نہیں کرہا تو اس بندے کا دل بھی اچاٹ جاتا ہے۔لیکن اگر دن میں ایک بندہ بھی گذرے اور وہ اسکی واہ واہ کرئے یا اسکی حوصلہ افزائی کرئے تو لوگ بڑئے بڑئے کام کرجاتے ہیں۔

    بلکہ بعض اوقات تو صرف ایک ہی بندے کی حوصلہ افزائی اور شاباشی بندے کو پہاڑ جتنا حوصلہ دیتی ہے۔

تبصرہ کریں