بلاگ نامہ

تکیہ کلام

تکیہ کلام ہوتا کیا ہے؟ ، تکیہ کلام دراصل عام معنوں میں باتوں کا تکیہ ہوتا ہے جس کے ذریعے آپ باتوں کو اس تکیہ پر رکھ کر کسی بھی جانب گھمانے کی صلاحیت میں ماہر بن سکتے ہیں۔تکیہ کلام ہر شخص کی باتوں میں ضرور ملتا ہے، کوئی اس کا استعمال بہت کم کرتا ہے ، کوئی اس کا استعمال بے دریغ کھلے دل سے کرتا ہے ، جبکہ کچھ کو تو تکیہ کلام کے دورے پڑتے ہیں۔
تکیہ کلام کی عادت پڑجانا بعض اوقات خطرہ بھی بن جاتی ہے ، اگر کبھی خطرہ بن جائے تو نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے کیونکہ سامنے والے شخص کو دیکھ کر آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ اگر غصہ والا شخص ہے تو کوشش کریں کہ تکیہ کلام کو کم استعمال کریں ، بعض اوقات میں تکیہ کلام فائدہ مند بھی رہتا ہے۔کچھ لوگوں کے برے تکیہ کلام بھی ہوتے ہیں ان سے بچنے کے لیئے آپ ان ہی کے تکیہ کلام ان کے سامنے دھرادیں وہ آپ سے معذرت کر یں گے اور تکیہ کلام کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔
ہمارے ساتھ اور سامنے بھی تکیہ کلام کے ” پریکٹیکل “ بہت ہوچکے ہیں۔جیسے ہمارے ایک عزیز ہمیں ساتھ لیئے صدر جانے کے ارادہ سے نکلے۔روڈ پر ٹیکسی والے کو پکڑا ، کرایہ پوچھا تو جناب کا جواب آیا آپ بیٹھ جائیں جناب کرایہ اتر کر دے دیجئے گا۔ہمارے عزیز نے دروازہ کھولا اور ہمیں بھی بیٹھنے کو کہا اور ٹیکسی والے کو چلنے کو کہا۔15 سے 20 منٹ میں ٹیکسی والے نے صدر پہنچادیا ، اووہ ! ہم نے تو آپ کو بتایا ہی نہیں کہ ہمارے عزیز کے تکیہ کلام کیا ہیں اور وہ کونسے زمرہ میں آتے ہیں ، تکیہ کلام کچھ اس طرح ہیں۔
” واقعی ! آپ مزاق کے موڈ میں تو نہیں ہیں نہ ؟ “
” اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ “
” ادھر دیکھیں ! آپ سنجیدہ ہی ہیں نہ ؟ “
” لگ تو نہیں رہے ہیں۔ “
اور انہیں تکیہ کلام کے دورے پڑتے ہیں۔یہ تکیہ کلام کبھی تو لائن سے بولتے اور کبھی آگے پیچھے بولتے۔
ٹیکسی سے اترنے کے بعد انہوں نے پوچھا ” بھائی کتنا کرایہ بنا ؟“۔
ٹیکسی والے جواب دیا ” 260 روپے جناب“۔
اچانک ہمارے عزیز کو تکیہ کلام کا دورہ پڑگیا ، اس کے بعد کیا ہوا آپ بھی پڑھیئے۔
عزیز : ” کتنا ؟؟۔ “
ٹیکسی ڈرائیور : ” 260 روپے ۔ “
عزیز : ” واقعی ! آپ مزاق کے موڈ میں تو نہیں ہیں نہ ؟ “
ٹیکسی ڈرائیور : ” صاحب جی! میرا آپ سے کوئی مزاق نہیں ہے۔ “
عزیز : ” اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ “
ٹیکسی ڈرائیور : ” کیا ٹھیک ہے ، مجھے میرا کرایہ دیں اور جائیں ، میرا ٹائم ضایع نہ کریں۔ “
عزیز : ” ادھر دیکھیں ! آپ سنجیدہ ہی ہیں نہ ؟ “
ٹیکسی ڈرائیور : ” اوو صاحب جی! کرایہ دیں مجھے میں سنجیدہ ہوں آپ سے۔ “
عزیز : ” لگ تو نہیں رہے ہیں۔ “
ٹیکسی ڈرائیور : ” کرایہ۔۔۔۔۔ “
عزیز : ” ادھر دیکھیں ! آپ سنجیدہ ہی ہیں نہ ؟ “
ٹیکسی ڈرائیور : ” اوووف اللہ کے بندے مجھے کرایہ دے کر فارغ کر۔ “
عزیز : ” واقعی ! آپ مزاق کے موڈ میں تو نہیں ہیں نہ ؟ “
اس کے بعد ٹیکسی ڈرائیور نے نہ جانے منہ ہی منہ میں کیا کھسر پھسر کی اور بغیر کرایہ لیئے روانہ ہوگیا۔ہمیں یقین ہے کہ یقیناً ٹیکسی ڈرائیور نے گالیاں ہی دی ہوں گیں۔لیکن ہمارے عزیز کے اس اچانک تکیہ کلام کے دورے نے 260 روپے کی بچت کروادی۔ 🙂
تکیہ کلام کا ایک فائدہ اور بھی ہے اگر آپ کسی شخص کی باتونی عادت سے تنگ ہیں تو آپ وقتی طور پر کوئی تکیہ کلام بنالیں اور بس ان صاحب کے ہر جملہ کے آخر میں بولتے جائیں اور پھر دیکھیں کہ ان کی باتیں کیسے پانچ منٹ کے اندر ہی ختم ہوجاتی ہیں۔

11 تبصرے برائے “تکیہ کلام”

  1. 🙂 لیکن عموماً یہ عادت بہت بُری لگنے لگتی ہیں۔ آپکا کیا خیال ہے، تکیہ کلام کا بےدریغ استعمال ہونا چاہئیے یا نہیں؟

    1. بے دریغ استعمال نقصان دہ ہوجاتا ہے کیونکہ تکیہ کلام کی عادت بڑی خطرناک ہوجاتی ہے دوسروں کے لیئے۔

  2. اس زمانہ میں 260 تو درکنار کوئی 60 روپے نہیں چھوڑتا، بس حضرت اب آپ اپنی اور اپنے دوست کی فکر کیجئے، کہیں وہ ٹیکسی ڈرائیور کوئی ٹارگٹ کلر ہی نہ ہو۔

    1. کراچی ہے کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا 😀

  3. اس طرح کی ایک کہانی پہلے بھی پڑھ چکا ہوں۔

      1. کافی عرصہ پہلے غالباً ماہنامہ ساتھی کے کسی شمارے میں پڑھا تھا یا شاید کسی کیسٹ کہانی میں سنا تھا۔ آپ کی فرمائش پر سرچ کیا تو وہ تحریر یہاں ملی: http://www.vshineworld.com/urdu/mypage/content/14/

        1. اتفاق ہوسکتا ہے۔ کیونکہ میں نے یہ تحریر آپ کے دیئے گئے لنک سے ہی ابھی پڑھی ہے۔

  4. یہ واقعہ تو ایک حیلہ معلوم دیتا ہے۔

    1. تکیہ کلام بھی حیلہ سے کچھ کم نہیں ہوتا 🙂

تبصرہ کریں