بلاگ نامہ

گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج ضرور لیکن پر امن کیوں نہیں ؟

چند دن پہلے سوشل میڈیا اور دیگر مسلم ممالک میں اچانک توہین رسالت ، گستاخ رسولﷺ کی مرتکب ایک فلم کے خلاف احتجاج میں تیزی آگئی ۔ احتجاج میں اضافہ ہونے کی خاص وجہ یہ ہے کہ فلم کو جب عربی زبان میں ڈب کیا گیا تو مسلمانوں کی سمجھ میں یہ آیا کہ اس فلم میں گستاخی کی گئی ہے ۔ کیا مسلمانوں کو انگریزی میں یہ فلم دیکھنے کے بعد سمجھ نہیں آسکا کہ اس فلم میں گستاخی کی گئی ہے ؟ یا مسلمانوں کو انگریزی میں جو کچھ بناکر دکھادیا جائے مسلمان اسے درست سمجھنے لگتے ہیں ؟ ۔
مسلم ممالک میں جاری احتجاج میں دن بدن تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ سفارت خانوں پر حملے کیئے جارہے ہیں ۔ جبکہ اسلامی قانون کے مطابق سفیر کو حالت جنگ میں بھی جان کی امان حاصل ہوتی ہے ۔ خیر یہ فلم بنائی گئی توہین کی گئی اور اس کے بعد اس فلم کو ابھی تک بند نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ سب مسلمانوں کے خلاف ہے ، اسلام کے خلاف ہے ۔ لیکن کیا بے وجہ کسی سفیر کا قتل وہ مسلم ہو یا نہ ہو دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے ؟ ۔ کیا ان احتجاج میں ہونے والے عام انسان کے جانی اور مالی نقصان ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہیں ؟ ۔ کیا اس طرح سفارت خانے ، عمارات اور عام انسان کے نقصان کردینے سے فلم کے بنانے والے کو کوئی سزا سنادی گئی ہے ؟ ۔ کیا اسے گرفتار کیا گیا ہے ؟ ۔ جب اس طرح توڑ پھوڑ کے احتجاجی سلسلوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا ہے تو کیوں کیئے جارہے ہیں ؟ ۔ مغربی ممالک تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ مسلمان غصے میں آکر خود کو دہشت گرد ثابت کریں ۔ ایسی فلمیں کیوں بنائی جارہی ہیں اسی وجہ سے کہ مسلم ممالک میں فسادات ، لڑائی جھگڑے اور دیگر برائیاں مزید جنم لیں ، ورنہ ان کے پاس فلم بنانے کے لیئے بے شمار موضوعات موجود ہیں ۔
حضور اقدسﷺ کی گستاخی تو آپﷺ کے اعلان نبوت کے وقت سے کی جارہی ہے اور آج تک جاری ہے ۔ کیا اس دور میں صحابہ کرام کو کافروں کی نبی کریم حضرت محمدﷺ کے خلاف ” بکواس “ سن کر غصہ نہیں آتا تھا ، ضرور آتا تھا بلکہ ہم سے لاکھ درجہ زیادہ اذیت پہنچتی تھی ، لیکن کیا صحابہ نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑا ؟ ہر گز نہیں ۔ صحابہ نے احتجاج بھی کیا تو قرآن اور حضرت محمدﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا ۔
آج ہم ہیں نماز فجر کے وقت مسجد میں 4 صفیں بھی مشکل سے بنتی ہیں ۔ سارا دن اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کے خلاف کام کرتے ہیں ۔ تو کیا صرف توڑ پھوڑ کے احتجاجی سلسلوں سے جنت مل جائے گی ؟ ۔
میں گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کے حق میں ہوں ، اور رہوں گا ۔ لیکن میں اس احتجاج کی حمایت نہیں کر سکتا جو کہ میرے نبیﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہو اور عام انسان کا اس میں جانی اور مالی نقصان ہو ۔ آخر ہم مسلمان پر امن احتجاج کیوں نہیں کرنا چاہتے ہیں ؟ ۔
ہمیں اور مسلم ممالک کو چاہیئے کہ ہم توڑ پھوڑ کے احتجاج کے بجائے پر امن احتجاج کریں ۔ اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر اس سائٹ کو بلاک کرنے کی سفارش کریں جس پر گستاخانہ مواد موجود ہو ۔
میں حکومت پاکستان کے اس اقدام کو سراہنا چاہوں گا کہ یوٹیوب کو پاکستان میں بلاک کیا گیا ہے ۔ اسی طرح گوگل کو بھی گستاخانہ تصاویر اور ربط ختم کرنے کو کہا جائے اگر نہ کیئے جائیں تو گوگل کو بھی بلاک کردیا جائے ۔ ایم ایس این کو بھی کہا جائے اگر عمل نہ ہوتو بلاک کردیا جائے ۔ اس طرح کرنے سے مسلمانوں کو فائدہ بھی حاصل ہوسکے گا اور یہ احتجاج کا بہترین طریقہ کہلائے گا ۔
یوٹیوب کو صرف پاکستان اور اس کے بعد بنگلہ دیش میں بند کیا گیا ہے ۔ اگر یوٹیوب سمیت ان تمام سائٹس کو جن میں گستاخانہ مواد شامل ہے ، تمام مسلم ممالک بلاک کردیں تو یقیناً ایک دن فلم سمیت تمام گستاخانہ مواد کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا اور فلم بنانے والوں کو بھی سزا سنادی جائے گی ۔ اگر سزا نہ سنائی گئی تو اللہ تعالیٰ انصاف دینے والا ہے وہ بہتر فیصلہ کرے گا ۔ نہ جانے ہم اللہ کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ صرف وہ ہی بہتر فیصلے کرنے والا ہے ۔

4 تبصرے برائے “گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج ضرور لیکن پر امن کیوں نہیں ؟”

  1. سعود says:

    آپ کی باتیں بالکل بجا ہیں۔ ہم لوگ (مسلمان) حضورؐ سے محبت تو جتاتے ہیں مگر اُنؐ کے کہے کو آرام سے نظر انداز کر دینا اور انؐ کےاسوہءِ حسنہ سے ہٹ کر زندگی گزارنا ہماری عادت بن گئی ہے۔

  2. Hasan says:

    بڑی اچھی باتيں ہيں ليکن جانوروں کو سمجھ نہيں آنی۔

  3. مسلمانوں کو اس امر کا احساس کرناچاہئے کہ آج ان کے پیغمبر کی توہین اس لئے ہورہی ہے کہ وہ دنیا میں کمزورو ناتواں ہیں اور بین الاقوامی سطح پران کاکوئی وزن اور ان کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے۔ اگر آج وہ تنکے کی طرح ہلکے نہ ہوتے تو کس کی مجال تھی کہ ان کے پیغمبرﷺ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنا احتساب کریں ، اپنی کمزوریاں دور کریں اور اسبابِ ضعف کا خاتمہ کریں ۔ اپنے دین سے محکم وابستگی اختیار کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں احکامِ شریعت پر عمل کریں کہ یہی ان کے لئے منبع قوت ہے اور گہرے ایمان اور برتراخلاق کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی متحد ہو کر آگے بڑھیں اور طاقتور بنیں تاکہ دنیاان کی بھی قدر کرے اور ان رہنمائوں کی بھی جنہیں وہ مقدس سمجھتے اور محترم گردانتے ہیں ۔

    ہو اگر عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
    نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
    (اقبال)

    1. اگر یہ باتیں مسلمانوں کو سمجھ آجائیں تو فساد ہی ختم ہو جائے

تبصرہ کریں