بلاگ نامہ

مرزا غالب

مرزا غالب شاعری کے ایک معروف شاعر سمجھے جاتے ہیں۔مرزا غالب کا اصل نام اسد اللہ خان تھا، مرزا غالب ہندوستان کے شہر آگرہ میں دسمبر 1797 میں پیدا ہوئے۔ان کے والد محترم کا نام عبد اللہ تھا۔مرزا غالب اپنے بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے۔اس کے بعد ان کی پرورش مرزا نصراللہ نے کی جو کہ ان کے چچا بھی تھے لیکن جب مرزا صاحب آٹھ سال کی عمر میں پہنچے تو ان کے چچا بھی اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔اس کے بعد احمد خان نے ان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کر وایا۔

مرزا غالب کی شادی 13 سال کی عمر میں احمد خان کے بھائی  کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی۔شادی ہونے کے بعد مرزا غالب نے اپنے آبائی شہر کو چھوڑ کر دہلی میں رہائش اختیار کی۔مرزا غالب  اچانک مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔آخر کار انہوں نے قرضوں کے بوجھ اور مالی مشکلات سے تنگ آکر قلعہ کی ملازمت اختیار کی۔مرزا غالب کو بہادر شاہ ظفر نے سن 1850 میں انہیں نجم الدولہ کا خطاب دیا۔

مرزا غالب شراب بہت پیتے تھے جس کی بنا پر ان کی صحت آہستہ آہستہ خراب ہوتی گئی اور وہ فروری کی 15 تاریخ سن 1869 کو اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے۔

ان کے مشہور کلام میں ”دیوان غالب“ شامل ہے۔جو ان کا لکھا گیا سب سے مشہور کلام ہے۔

مرزا غالب کی شاعری میں یہ کلام محسن ہیں :-

  • فلسفیانہ لہجہ
  • تصوف کا رنگ
  • غم پسندی
  • یجاز واختصار
  • عظمتِ انسانی
  • رندی
  • شوخی و ظرافت
  •  رشک و حسد

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں کہ ان کی تمنا نہیں کرتے

چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاﺅں کدھر کو میں

3 تبصرے برائے “مرزا غالب”

  1. حد کردی ہے جی آپ نے وی مرزا غالب شاعری کے ایک معروف شاعر سمجھے جاتے ہیں ارے جناب، وہ واقعی مشہور ہیں، سمجھے ہی نہیں جاتے، اور وہ بھی صرف اردو میں مشہور ہیں ورنہ جرمنی فرانس، ولایت وغیرہ میں انکو کوئی نہین جانتا ہے، حتٰی کہ پنجابی والے بھی مرزا غالب کا کام مرزا سے لیتے ہیں مگر وہ صاحباں والا ہے، ہیں جی، مرزا غالب کی وجہ شہرت انکی شاعری تھی جس بارے آپ نے کچھ نبھی نہیں لکھا ، ورنہ دوچار چوتے چوتے اشعار نقل لرنا باعث برکت و دلچسپی ہوتا، جبکہ انکی وجہ شہرت نہ تو انکی پیدائش تھی، نہ ہی یتیمی، نہ ہی امراء بیگم سے شادی، نہ ہی انگریزی پینش، البتہ شراب نوشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے، کچھ کہتے ہیں پیتے تھے کچھ کہتے ہیں نہیں پیتے تھے مگر چونکے شاعری میں بہت ذکرکرتے تھے تو بدنام تھے، سچ ہے کہ بد سےبدنام برا، ہیں جی،

    اگر آپ یہ تبصرہ ایڈٹ کریں گے یا تپ کر شائع نہیں کریں گے تو میں اسے اپنے بلاگ پر شائع کرنے کا جملہ حق رکھتا ہوں، ہیں جی

    1. مرذا غالب کے بارے میں اگر لکھنا شروع کیا جائے تو مکمل کتاب بن جائے اس لیئے ہم نے یہی اہم سمجھا۔اور آپ دیکھ لیں ہم نے نہ تو ایڈٹ کیا اور نہ ڈیلیٹ کیا آپ کا تبصرہ۔کیوں کہ یہ آپ کا حق ہے جو چاہیں جیسا چاہیں تبصرہ کریں

  2. جو جانتے ہیں انہیں کم ہی لگے گا پر جو ان کی زنگی کو نہیں جانتے ان کے لئے مختصر تعارف ہی بہت ہے

    ایسا میں بھی کرتی رہتی ہوں

تبصرہ کریں