بلاگ نامہ

آخری سفر

میری روح نکلنے والی ہوگی

میری سانس بکھرنے والی ہوگی

پھر دامن زندگی کا چھوٹے گا

دھاگہ سانس کا بھی ٹوٹے گا

پھر واپس ہم نا آئینگے

پھر ہم سے کوئی نا روٹھے گا

پھر آنکھوں میں نور نا ہوگا

پھر دل غم سے چور نا ہوگا

اس پل تم ہم کو تھامو گے

ہم سے دوست اپنا مانگو گے

پھر ہم نا کچھ بھی بولیں گے

آنکھیں بھی نا کھولیں گے

اس پل تم رو دو گے

ہم کو تم کھو دو گے

( از احمد فراز )

6 تبصرے برائے “آخری سفر”

  1. احمر says:

    یہ ایس-ایم-ایس والے احمق فراز کی نظم تو نہیں، کیوں کہ یہ انداز اصلی تے وڈے احمد فراز والا نہیں ہے-

    1. یہ نظم کہیں پڑھی تھی لیکن وہاں شاعر کا نام نہیں تھا ۔ پھر نیٹ پر تلاش کیا تو احمد فراز کا نام ہی ملا ۔

  2. iIbrahim Ali says:

    بڑے بھآئ کل پڑھا تھا ابتدائہ پربت کا سفر اورآج آپنے آخری سفر کی سرخی لگا کردوران خون کچھ دیر کوتیز کردیا۔

    1. آپ کو ایک غلط فہمی ہوگئی ہے وہ یہ کہ پربت کے سفر کی کہانی بلال محمود بھائی کے بلاگ ہر ہے جبکہ یہ میرا بلاگ ہے۔میرا اور بلال محمود بھائی کا بلاگ الگ ہے۔نام ایک ہی ہونے کی وجہ سے آپ کو بھی غلط فہمی ہوگئی ہے۔

  3. میرے خیال سے آپ کو اب موت کا منظر مع بعد از مرگ کیا ہوگا مصنف محمد اسلام، کو پڑھ کر ادھر نقل کرنا شروع کردینا چاہئے، جملہ عوام الناس کےلئے ازحدمفید و منصحت ثابت ہوگا۔

    وللہ اعلم بالصواب،

تبصرہ کریں