بلاگ نامہ

کیا مزدور ڈے کا یہی مطلب ہے ؟

یکم مئی کو مزدور ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس دن دنیا بھر میں مزدوروں سے اتحاد  کے لیئے ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔جلوس نکالے جاتے ہیں۔تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ہر جگہ میڈیا سے لیکر عوام تک مزدور مزدور کے نعرے لگتے ہیں۔بڑے بڑے اعلانات کیئے جاتے ہیں ، ہم مزدوروں کو حق دلائیں گے ، ہم مزدوروں کو یہ دیں گے وہ دیں گے لیکن مقصد ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔جب حق دلانے کا وقت آتا ہے کہا جاتا ہے ” کون سا حق آپ لوگ اتنا لوٹ رہے ہیں ملک سے کبھی احساس کیا بلڈنگ مقانات بنانے کے ٹھیکے آپ کے پاس ، فیکٹریوں پر آپ کا قبضہ ، یہیہ بتائیں کہ آپ نے کہاں قبضہ نہیں کیا پھر بھی کہتے ہو کہ ہمیں ہمارا حق دو جاؤ ہماری جان چھوڑو “۔

میڈیا پر پروگرام نشر ہوتے ہیں ، اخباروں میں صفحات شائع ہوتے ہیں ، ریڈیو پر پروگرام کیئے جاتے ہیں۔لیکن کیا آپ نے سوچا کہ یہ پروگرام کیئے تو مزدوروں کے لیئے جاتے ہیں لیکن ان پروگرام میں امیر لوگوں سیاست دانوں ، دیگر فیکڑیوں کے مالکان کو طلب کیا جاتا ہے۔کیا یہ تمام افراد مزدور کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ان پروگرام میں مزدور کو جھاڑو دینے کے لیئے بلایا جاتا ہے۔انہیں پروگرام کے سیٹ پر شاندار عالی شان سوفوں پر کیوں نہیں بٹھایا جاتا ؟۔اس کا جواب کیا کسی کے پاس موجود ہے ؟۔نہیں کیونکہ لوگ اصل مزدور کو کم تر سمجھتے ہیں۔

یاد رکھیں آج اگر مزدور نہ ہوتا تو دنیا کبھی ترقی نہ کرتی۔اس جدید دنیا کی تمام چیزیں مزدوروں نے بنائی ہیں۔مالکان نے تو صرف پیسہ ہی دیا ہے۔

پاکستان میں بھی اسی طرح تقاریب ، پروگرام کیئے جاتے ہیں۔بڑے بڑے لوگ آتے ہیں اور اسٹیج پر ” بونگیاں “ مار کر چلے جاتے ہیں۔ان پروگراموں میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان میں زیادہ کی تعداد صرف اور صرف کھانا کھانے کی غرض سے آتی ہے۔پروگرام کے ختم ہوتے ہیں کھانا کھانے کی  جگہ پر لائن لگ جاتی ہے۔

کیا کبھی کسی نے مزدور کے بچوں کو لیئے اسکول کی فیسیں معاف کروائیں ؟ ۔ کیا کسی نے مزدور کے لیئے مفت میں تفریحی سامان کی سہولت فراہم کی ؟ ۔ کیا کسی نے مزدور کی دھاڑی بڑھانے کی کوشش کی ؟ ۔ کیا کسی نے مزدو کے لیئے وظیفہ مقرر کروایا ؟ ۔ نہیں کیوں کروائیں بڑے لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے۔

یکم مئی کو تقریباً پوری دنیا میں چھٹی ہوتی ہے۔اس دن بڑے لوگ تفریح کرتے ہیں ، کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور دنیا کے کاموں میں مگن ہوتے ہیں اور پھر آکر نیند پوری کرتے ہیں۔کیا مزدور ڈے اس لیئے منایا جاتاہے ؟۔مزدور بچارا تو اس چھٹی والے دن بھی محنت کرتا ہے۔اسے تو اس دن بھی چھٹی نہیں ملتی۔

اگر ہم مزدوروں کی زندگی کو بیان کرنا شروع ہوجائیں تو یقین مانیں مزدور کی پریشانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں لیکن ہمارے پاس الفاظ ختم ہوجاتے ہیں۔مزدور لگاتار پورا ہفتہ کام کرتا ہے۔لیکن پھر بھی زندگی کی گاڑی مشکل سے کھنچتاہے۔

شاید مزدور ڈے تفریح اور شغل کا نام ہے۔اس دن کا نام تبدیل کرکے شغل ڈے کردینا چاہیئے کیونکہ اس دن سے مزدور کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ تو پھر اس دن کا کوئی فائدہ۔

آج کے مزدور کی زندگی تو ایسی ہی ہے جیسا کہ فیض احمد فیض نے کہا تھا۔

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

تبصرہ کریں