بلاگ نامہ

کھیت کو صاف کرنا ہے یا گندہ ؟

ایک کھیت ہے اس میں اجازت ہے کہ یہاں کوئی بھی آئے ، یہاں کھیتی باڑی کرے یا پہلے سے موجود فصلوں سے فائدہ اٹھائے ۔ ایک دن اچانک سے ایک شخص آتا ہے وہ فصلوں پر کیچڑ پھینک کر چلاجاتا ہے ۔ کچھ لوگ اس کیچڑ کی وجہ سے اس کھیت کو استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اور آگے دیگر لوگوں کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ کھیت سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہم فائدہ اٹھائیں اور اس کھیت کو صاف کریں لیکن انہیں صفائی سے روکا جاتا ہے اور اس طرح کھیت گندہ ہوتا جاتا ہے اور فصلیں تباہ ہوتی جاتی ہیں ۔
اس کھیت سے مراد گوگل ، فیس بک ، یوٹیوب اور دیگر سوشل نیٹ ورکس ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والے ہم لوگ ہیں ، اب فیصلہ آپ کریں کہ آپ کھیت کی صفائی کریں گے اور اس میں دوبارہ سے صاف فصل کے لیئے بیج بوئیں گے یا کھیت کا استعمال چھوڑ کر دوسروں کو بھی تلقین کریں گے کہ نہ استعمال کریں ۔
جاگیں اور اپنی سوچ کو بلند کریں اور ان تمام سروسس کا فائدہ اٹھاکر دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچائیں ۔ اگر ٹیری جونز اسلام مخالف فلم بناتا ہے تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ مقابلہ میں وہ بھی ایسی فلم بنائیں جس سے غیر مسلم اقوام کو سبق مل سکے ۔

20 تبصرے برائے “کھیت کو صاف کرنا ہے یا گندہ ؟”

  1. ابھی تک اسلام کے کئی ورژن سن چکے ہیں۔ مگر آپکا goody goody اور peaceful ورژن سب سے نرالا ہے۔
    اور اس پر یہ کھیت اور تمثیل نہایت نرالی ہے۔ کھیت ہو اور کسی کی ملکیت نا ہو یہ ایک نہایت عجیب بات ہے۔ آپ نے کہا کہ اس کھیت سے سب کو اجازت ہے استفادہ کی۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجازت آسمان سے تو نہیں آئی ہوگی۔کھیت کسی نا کسی کی ملکیت ضرور ہوگا جس نے مفاد عامہ کے لیے اس کھیت کو وقف کیا ہوگا۔
    کیچڑ اور گندکی بات بھی نرالی ہے ۔ اگر کیچڑ ہی ہے تو وہ سب کے لیے ہی کیچڑ ہوگی یہ تو کوئی بات نا ہوئی کہ آپ تو اس کیچڑ سے گھن کھائیں اور دوسرے بڑے سے آپ کی کراہیت پر ہنستے ہوئے اس کھیت سے استفادہ حاصل کرتے رہیں۔
    سوال : اب اگر اس کھیت کا مالک یا جو بھی اسکی دیکھ بھال کر رہا ہے یعنی کھیت میں کھاد ڈال رہا ہے ، پانی دے رہا ہے ، فصل بو رہا ہے ، اس کیچڑ کو نا صرف ہٹا نے سے انکار کردے بلکہ کیچڑ پھینکنے والے کی حوصلہ افزائی کرے۔ (محمدﷺ کے خاکے بنانے کے مقابلے کا اعلان کرے ) تو آپ کا ردعمل کیا ہونا چاہیے۔
    اب ایک دوسری تمثیل سنیے جو میں اکثر دیا کرتا ہوں وہ یہ کہ ایک ہوٹل میرے علاقے میں ہے جسکے کھانوں کی لذت کا ہر کوئی دیوانہ ہے ۔ میرا تو یہ حال ہے کہ جب تک میں اس ہوٹل میں کھانا نا کھا لوں مجھے کھانا اچھا ہی نہیں لگتا۔ ایک دن اس ہوٹل کے مالک کا بیٹا، دوست یا کوئی بھی رشتہ دار میرے مرحوم باپ کو فحش گالیاں دینے لگ جائے ، میرے اس باپ کو جس سے وہ کبھی ملا نہیں اور جس نے اسے کبھی بھی کسی قسم کا وئی نقصان نہیں پہنچایا ۔ اور وہ یہ کام بار بار کرے۔ جب میں ہوٹل کے مالک سے اس عمل شنیع کی شکایت کروں تو وہ اپنے رشتہ دار کی کسی بھی قسم کی سرزنش سے نا صرف انکار کردے بلکہ اسکے اس گھناؤنے عمل کی حمایت شروع کردے تو آپکا خیال ہے میرا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟
    پھر آپ دیکھیں کہ میں اس ہوٹل میں کھانا کھاتا پایا جاؤں اور بڑی تمیز اور تہذیب سے گالیاں دینے والے کے جواب میں کہوں کہ نہیں جناب میرے والد تو ایسے نا تھے آپکو یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے۔
    دنیا میرے اس طرز عمل کے بارے کیا کہے گی مجھے نہیں معلوم مگر میری ڈکشنری میں اس طرزعمل کے لیے جو لفظ ہے اسے قلم بند نہیں کیا جاسکتا صرف بالمشافہ ملاقات پر کہ جب بزرگ، بچے یا خواتین پاس موجود نا ہوں، بتایا جاسکتا ہے۔
    آپکا اس بارے میں کیا خیال ہے ۔ جواب کا منتظر
    احقر
    جواد احمد خان

    1. پہلے تو بلاگ پر تشریف لانے کے لیئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
      پھر یہ کہ آپ صرف اتنا بتادیں کہ یوٹیوب کو بلاک کرنے سے ابھی تک کیا فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔ کیا یہ فلم ختم کردی گئی ؟ کیا اس فلم کی تشہیر روک دی گئی ہے ؟
      والسلام

    2. ” پھر آپ دیکھیں کہ میں اس ہوٹل میں کھانا کھاتا پایا جاؤں اور بڑی تمیز اور تہذیب سے گالیاں دینے والے کے جواب میں کہوں کہ نہیں جناب میرے والد تو ایسے نا تھے آپکو یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے۔ “

      یہ جو اپکے الفاظ ہیں بلکل ایسے ہی صحابہ کے ھوتے تھے۔آپ تو ان کو طنز سے کہہ رہے ہیں۔
      جہاں تک تعلق ہے——

      ” اس کیچڑ کو نا صرف ہٹا نے سے انکار کردے بلکہ کیچڑ پھینکنے والے کی حوصلہ افزائی کرے “

      تق جناب ایسی بھت سی وڈیوذ مسلمانوں نے بھی بنایی ہیں اور ابتک موجود ھیں تو یہ یوٹیوب کی لاتعلقی کو ظاہر کرتا ہے۔کسی بھی مزہبی قوتوں سے۔

      1. بھائی مہران نانڈلہ!
        صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کے الفاظ کے بارے میں آپ نے کہیں پڑھا ہے یا محض قیاس سے کام لے رہے ہیں؟
        صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین تو ننگی تلوار ہوتے تھے ناموس رسالتﷺ کے معاملے میں۔ توہین رسالت تو دور کی بات اگر نبی کریم ﷺ سے گفتگو میں بھی کوئی کافر حد ادب سےتجاوز کردیتا تھا تو انکی تلواریں باہر آجاتی تھیں۔ یہ کسی افسانہ کا ڈائیلاگ نہیں بلکہ لکھی ہوئی تاریخ ہے۔

  2. جناب میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ جس کیچڑ کو آپ صاف کرنے کی بات کررہے ہیں اس کیچڑ کو صاف کرنے کا تو آپ کے پاس سرے سے اختیار ہی نہیں ہے۔ یہ کیچڑ تو اس لیے ڈالی گئی ہے کہ آپ گند اور کیچڑ کے ساتھ جینا سیکھیں۔کمپرومائز کرنا سیکھیں ۔ اور کس چیز پر کمپرومائز کرنا سیکھیں؟؟؟۔۔۔۔ جی ہاں ! ناموس رسالتﷺ پر کمپرومائز کرنا سیکھیں۔ کیا آپ یہی کچھ لیکر آخرت میں شافع محشر، نبی کریم ﷺ کے پاس بخشش کی سفارش کے لیے جائیں گے ؟
    بائیکاٹ جناب بائیکاٹ ۔۔۔۔ توہین رسالت کرنے والی ہر چیز کا بائیکاٹ کیا جائے۔
    اپنا جہاں خود بنایا جائے۔ جو مردوں کو شیوا ہوتا ہے۔ مردان کار کا طریقہ ہوتا ہے۔
    اپنی آپریٹنگ سسٹم ، اپنا سرچ انجن، اپنی ڈیٹا اور ویڈیو شیئرنگ سائٹس، اپنا آفس ہر چیز اپنی قومی زبان میں تشکیل دی جائے۔ پھر دیکھیں کہ یہ لوگ کس طرح اپنی سائٹس پر گند پھیلنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
    مجھے معلوم ہے کہ آپ فوراً یہ کہیں گے کہ یہ کام نا ممکن ہے ، کون کرے یہ کام۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
    تو جناب ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ اگر اس کام کی ضرورت سب لوگ محسوس کر یں اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بہت بڑی تعداد میں مطالبہ کریں تو یہ کام بھی ہوسکتا ہے۔ جس طرح ہم باقی چیزوں کے لیے مطالبات کرتے ہیں اسکے لیے بھی آواز اٹھاسکتے ہیں۔ لیکن اسکے لیے ہمیں سب سے پہلے اس وبال کو سمجھنا ہوگا کہ جو توہین رسالت کی وجہ سے ہمارے سروں پر لٹک رہا ہے۔ دینی غیرت پیدا کرنی ہوگی اور دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ توہین رسالت کسی بھی قیمت پر قابل برداشت نہیں ہے۔ محض تھرڈ کلاس کنزیومر بن کر یہ کام نہیں ہوسکتا۔

    1. میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ سب نہیں بن سکتا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ پاکستان میں اس طرح کی چیزیں بن چکی ہیں ۔ مگر ان کی حوصلہ افزانی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر بائیکاٹ کرنے پر آئے تو میرا خیال ہے کہ ہمیں پاکستان کی 97 فیصد چیزوں کا بائیکاٹ کرنا پڑے گا جو کہ کوئی نہیں کرنے کی ہمت رکھتا ہے ۔

  3. 97 فیصد میں سے ضروریات زندگی کی کتنی چیزیں ہیں؟ کیا آپکا گھر درآمد شدہ مٹیریل سے بنتا ہے؟کیا آپکا کپڑا درآمد ہو کر آتا ہے؟ کھانے پینے کی کونسی چیز ہے جو باہر سے آتی ہے؟ کیا آپکی درسگاہیں بنیادی تعلیم کے لیے مغرب کی محتاج ہیں؟ کیا آپکے ملک میں دوائیاں نہیں بنتیں؟ کیا مشین کے پرزے ہمارے یہاں نہیں بنتے؟
    نہیں جناب تعیشات کی بات نا کیجیے۔
    97 فیصد کی بات کون کرتا ہے یہاں تو صرف فیس بک اور یوٹیوب کی بات ہو رہی ہے۔ جو بنیادی ضرورت تو کیا کسی بھی قسم کی ضرورت نہیں ہے البتہ ایک ایڈکشن ضرور ہے۔ میں آپکو گارنٹی سے کہتا ہوں کہ آج فیس بک یا یو ٹیوب یہ اعلان کردے کہ ہم معاذ اللہ نبی کریم ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکے اور فلمیں روزانہ کی بنیاد پر نا صرف چلائیں گے بلکہ مسلمانوں کو مجبور بھی کریں گے کہ وہ جب بھی فیس بک یا یوٹیوب کھولیں انہیں یہ سب کچھ دیکھنا اور برداشت کرنا پڑے۔ تو یقین مانیے پاکستان کے 10 فیصد انٹرنیٹ یوزرز بھی اسکا بائیکاٹ نہیں کرسکیں گے۔اور بجائے دینی غیرت سے کام لینے کے اپنی ذہنی عیاشی کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی بہتر تصور کو پیش کرنے کا لالی پاپ ہی چوستے رہیں گے۔ اسے ریلیجئیس ڈس اورینٹیشن کہتے ہیں۔مجھے اس ڈس اورینٹیشن کی بالکل سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔۔ خدا کی قسم میں اس ڈس اورینٹیشن کو بالکل سمجھ نہیں سکا ہوں۔
    میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں کہ فرض کریں کہ آپکا پسندیدہ شیمپو ہیڈ اینڈ شولڈر ہے۔ اب پراکٹر اینڈ گیمبل اپنی اشتہاری مہم کے دوران آپکا ایک مضحکہ خیز مگر شرانگیز کارٹون شایع کردیتا ہے جس سے آپکی بڑی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ اور آپکو اپنی شدید توہین کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس اس وقت اور شدید ہوجاتا ہے کہ جب پراکٹر اینڈ گیمبل آپ سے کسی بھی قسم کی معذرت سے نا صرف انکار کردیتا ہے بلکہ وقتاً فوقتاً شایع کرکے آپکی اذیت اور توہین میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ تو مجھے بتائیے کہ ان سب چیزوں کے بعد آپکا دل کرے گا کہ آپ ہیڈ اینڈ شولڈر خریدیں؟ کیا آپ یہ کہہ سکیں گے مجھے پراکٹر اینڈ گیمبل سے کوئی مطلب نہیں مجھے تو اپنے بال عزیز ہیں؟
    سوال : ناموس رسولﷺ کے لیے ہمارا وہ معیار کیوں نہیں ہے جو خود ہماری اپنی ذات کے لیے ہے؟

    1. میں مختصر جواب دینا چاہوں گا کہ اگر آپ حضور اکرمﷺ کو عام بد نصیب ، گنہگار یا کسی بھی قسم کے انسانوں سے ملانا چھوڑ دیں تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ آپﷺ کی شان میں کمی معاذ اللہ کبھی نہیں ہوسکتی ہے۔

  4. نہیں جناب یہ غلطی میں نے نہیں کی۔میں تو صرف یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ ہمارے پاس توہین رسالت کو برداشت کرنے کا حوصلہ کہاں سے آرہا ہے؟

    1. حضرت محمدﷺ سے کون کتنی محبت کرتا ہے ، اور کون دکھاوے کی محبت کرتا ہے یہ تو صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں تو یہ نوبت ہی نہ آئے کہ کوئی ہمارے پیارے نبی کریمﷺ کی گستاخی کرے۔

      1. جناب بلال صاحب،
        کیا آپ اسکی تشریح فرمائیں گے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے ناموس رسالتﷺ کا کیا تعلق ہے؟

        1. میں آپ کی بات کا جواب اس طرح دوں گا کہ ، حضورﷺ نے اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلایا ہے ۔ اور اگر ہم اطاعت رسولﷺ پر عمل کریں گے تو کسی کی یہ ہمت ہی نہیں ہوسکتی کہ کوئی ہمارے نبیﷺ کو کچھ کہنے کی ہمت کرے ۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو کیسے تو آپ قرآن و احادیث اور رسول اللہﷺ کی سیرت و اخلاق کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں ۔

          1. الحمداللہ میں پہلے سے ہی اس مشورہ پر گذشتہ 25 سال سے عمل کررہا ہوں۔
            لیکن مجھے ابھی تک ناموس رسالتﷺ اور عشق رسولﷺ کے عملی تقاضوں میں تعلق سمجھ نہیں آیا۔ آپ کہتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے ناموس رسالتﷺ پر حملہ کی کسی کی جرت نہیں ہوگی۔
            کیا وہ لوگ ڈر جائیں گے؟
            پھر آپکو علم ہوگا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین سے زیادہ کون اسلامی تعلیمات پر عمل کرسکتا ہے؟؟ جنکی تربیت خود نبی کریمﷺ نے کی۔
            لیکن ان کے دور میں بھی متعدد ملعونوں نے اس عمل شنیع کا ارتکاب کیا اور جہنم رسید کیے گئے۔تو جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کا عقیدے پر راسخ ہونا اور سمع و اطاعت کا نمونہ بن جانا بھی اس عمل کو نہیں روک سکا تو ہمارا عمل کیا کرلے گا۔
            آپ ناموس رسالت ﷺ کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے کیوں ملاتے ہیں؟ کیا آپ یہ نہیں دیکھ سکتے کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہورہا ہے جسکا مقصد امت کے دلوں سے نبی کریم ﷺ کے لیے محبت اور احترام کو کم کرنا ہے۔ اور اس میں وہ کامیاب ہیں۔ کم از کم بہت سارے لوگوں کو انہوں نے اس بات کے لیے تیار کرلیا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی توہین ہوتے دیکھیں اور ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں۔ اور یہ سوال کریں کہ یوٹیوب کا بائیکاٹ کرکے ہمیں کیا مل جائے گا؟

            1. جناب اگر آپ کو نہیں سمجھ آیا تو ٹھیک۔آپ کے مطابق آپ 25 سال سے عمل کررہے ہیں۔میں آپ سے صرف ان ملعون گستاخوں کے نام اور تفصیل جاننا چاہوں گا۔کیونکہ میں تو کم عقل ہوں۔اور آپ تو 25 سال سے اس مشورہ پر عمل کررہے ہیں،اس لیئے آپ کو سب معلومات ہوں گی۔

  5. یہ کیسا بچگانہ سوال ہے۔نا میں آپ کے سامنے ہوں اور نا آپ میرے سامنے۔ کیا آپ یہ نہیں دیکھ سکتے کہ آئے دن توہین رسالت پر مضامین آتے رہتے ہیں جن پر اسلام کے اولین دور میں جہنم رسید ہونے والے ملعونین کا عبرت ناک تذکرہ ہوتا ہے۔ اگر نا بھی ہو تومجھے بہت سارا وقت مل سکتا ہے جس کے دوران میں انٹرنیٹ پر باآسانی یہ نام تلاش کر سکتا ہوں اور کوئی بھی میرے اس بہانے کو رد نہیں کرسکتا کہ مجھے وقت نہیں ملا آن لائن ہونے کے لیے اس لیے دیر سے جواب دے رہا ہوں۔ بہرحال چونکہ آپ نے پوچھا ہے تو جواب دے رہا ہوں
    1) کعب بن اشرف
    2) یہودی ابو رافع
    3) ابن ختل ۔۔۔۔ جس کے بارے میں عام معافی کے باوجود حکم تھا کہ اگر اسے کعبے کے پردے لٹکا پاؤ تو بھی قتل کردہ
    4) ابو لہب کی لونڈی جسے فتح مکہ پر قتل کیا گیا
    5) ابن ختل کی دو لونڈیاں
    نوٹ: یہ لونڈیاں کسی کے قتل کے قصاص کے طور پر نہیں قتل کی گئیں بلکہ انکا واحد جرم توہین آمیز اشعار اور گانے گانا تھا۔
    6) مدینہ کی ایک یہودی عورت جسے توہین رسالت کے جرم میں گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ( سنن ابو داؤد 38: 4349 )
    7) نابینا صحابی جنہوں نے ایک اپنی ام الولد کو محض توہین رسالت پر قتل کیا ( سنن ابو داؤد 38: 4346 )
    اس موضوع پر تفصیل آپکو متعدد کتابوں اور کتابچوں میں با آسانی مل سکتی ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس طرح کے سوال سے آپ کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔

    1. جزاک اللہ ۔ بہت بہت شکریہ ۔ بچکانہ تو ہوگا نہ جی کہ 25 سالہ تجربہ کار شخص کے سامنے میں تو کچھ نہیں ہوں ۔

      1. حضرت! آپ تو ذاتیات پر اتر آئے۔ 🙂

        1. بس جناب ، اب یہیں ختم کرتے ہیں ۔
          آپ کا میں بہت شکر گزار ہوں

          1. میں بھی آپکا نہایت شکر گذار ہوں۔ آپ سے بات کرکے اچھا لگا۔

  6. اس موضوع پر قریب دو سال پہلے میں نے ایک مضمون شایع کیا تھا جسکا لنک حسب ذیل ہے۔
    http://funadamentalist.wordpress.com/2010/11/23/blasphemy-reason-behind-aggressive-persuasion-and-islamic-perspective/

تبصرہ کریں