بلاگ نامہ

فیس بک سے وابستگی

فیس بک سے میری وابستگی کو ایک سال ہونے کو ہے ،پہلے پہل جب میں نے فیس بک اکاؤنٹ بنانے کا سوچا تو اس دوران خاکوں اور گستاخی کا معاملہ اٹھا جس کے بعد میں نے اکاؤنٹ بنانے کا ارادہ ترک کردیا۔لیکن مجھے پھر نومبر 2010 میں فیس بک استعمال کرنے کی سوجھی اس لیئے میں نے اکاؤنٹ بنا ہی ڈالا،مجھے فیس بک اس وقت استعمال کرنا تو آتی ہی نہیں تھی اس لیئے میں فیس بک کے ہر آپشن میں ”گھسنے“ کوشش کرتا ۔میں نے فیس بک دو ہی ہفتوںمیں کھنگال کر سیکھ لیا اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کردی،مجھے اچھے دوست ہی ملے تقریباً لہٰذا میرے پاس اچھی پوسٹ آنے لگیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ دوست بھی آنے لگے جس کے بعد میرا یہ سفر ابھی تک جاری ہے۔اور پتہ نہیں کب تک جاری رہے گا۔

فیس بک سے ایک سال کی وابستگی کے دوران میرے پاس ایسی اچھی وال پوسٹس بھی آئیں جنھوں نے میری معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔اس کے ساتھ دینی فائدہ کی تحریریں بھی ملیں اور دنیا وی فائدے کی تحریریں بھی موصول ہوئیں۔اس کے علاوہ میرے پاس امید بحال کرنے والی ویڈیوز بھی آئیں۔جنہیں دیکھ کر ایک الگ سی امید دل میں آتی اور ہماری اپنے ملک سے محبت بڑھتی ہی جاتی۔

اس دوران میرے ایک سو سترہ دوست بنے۔13 تصاویر کے البم بنائے۔103 تصاویر اپلوڈ کیں۔جن میں 15 بار اپنی پروفائل تصویر تبدیل کی۔5 فیس بک پیج بنائے۔جن کے نام درج ذیل ہیں:-

1:-امید پاکستان

2:-اسماعیل اللہ والا بوائز سیکنڈیری اسکول

3:-کراچی

4:-انٹرینٹ سے پیسے کیسے کمائے جاسکتے ہیں؟

5:-بلاگ نامہ

اور 15 فیس بک گروپ دوستوں کے جوائن کیا۔یہ میری فیس بک پر ایک سالہ کہانی تھی جس میں میں نے صرف کتنی وال پوسٹ کی ہیں یہ نہیں بتایا کیوں کہ مجھے صحیح اندازہ نہیں ہے۔یہ کہانی آج بتاریخ 24 اکتوبر تک کی ہے۔

8 تبصرے برائے “فیس بک سے وابستگی”

  1. ہمیں تو بس دوستوں سے تصاویر شئیر کرنا پسند ہے اور بس

    1. اچھا ہے کچھ تو فائدہ ہوتا ہے دوسرے لوگوں کو

  2. فیس بک کا میں بھی ایک زمانے میں عادی تھا لیکن پھر کچھ سوچ کر چھوڑ دیا ۔
    پھر جاوید چودھری کا یک کالم جس میں انہوں نے فیس بک کے استعمال کی ترغیب دی ، تو میں نے اسکو ایک جوابی کالم لکھا ،جس کے ساتھ کافی دوستوں نے اتفاق کیا۔

    http://darveshkhurasani.wordpress.com/2011/06/28/962/

    یہی جواب ایک دوسری ویب (ہماری ویب ڈاٹ کام) پر بھی شایع کیا تو وہاں بھی کافی لوگوں نے اسے پسند کیا۔
    اور دوستوں کی طرف سے اسکو 5 سٹار ملے۔
    http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=10482

    1. آپ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن فیس بک نے ہم سے ایسے رشتے دار بھی ملا دیئے ہیں جن سے رابطہ ممکن نہیں ہے پھر ہم کیا کریں

  3. تیمور احمد says:

    فیس بک سماجی رابطوں کا اہم ذریہ بن چکا ہے..آج کل فیس بک کے ذریے انقلاب لاۓ جا رہے ہیں ..یہ عوام کی آواز کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے…اس لئے دورے حاضر میں اس کو نظر انداز کرنا مشکل ہے..

  4. السلام علیکم
    بلال صاحب آپکی بات تو ٹھیک ہے کہ فیس بک سے کسی حد تک رشتہ داروں سے میل ملاپ کا ایک سلسلہ پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ہم مسلمان فرقہ واریت، برادریوں میں بٹ گئے ہیں۔ میں ایک لمبے عرصے سے فیس بک ستعمال کر رہا تھا، لیکن ایک دن میرے ایک دوست نے ایک گروپ کے بارے میں کہا کہ اسکی رپورٹ کریں۔ وہ جب میں نے دیکھا تو میرا خون کھولنے لگا، کسی نے نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے برے الفاظ استعمال کیے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی، میں لاچار تھا کہ اس کا کیا جواب دوں لیکن وہ بندہ میری پہنچ سے دور تھا۔ انڈین تھا۔ بس میں اپنے آپ میں ہی کڑھتا رہا۔ بس اگلے دن درویش خراسانی صاحب کی پوسٹ پڑھی، تو میں نے اپنا اکاونٹ سرے سے اڑا دیا کہ کہیں مجھ پہ بھی ایسا وقت نہ آ جائے کہ میں اسے معمول کی بات سمجھ لوں اور فیس بک پہ اپنی رشتہ داریاں نبھاتا رہوں۔

    1. واقعی آپ‌کی بات تو ٹھیک ہے انساں کیا کرے کہ کوئی پاکستان میں ایسا نیٹ ورک موجود ہی نہیں اور اگر ہے تو بہت ہی زیادہ دیر سے کھلتے ہیں اس کے علاوہ زیادہ فیچر بھی نہیں ہیں ان میں ۔ اور میں ایسے افراد کو اپنے دوستوں میں شامل نہیں کرتا ۔ میرے پاس اپنے دوستوں میں 99 فیصد ایسے ہیں جنہیں میں جانتا ہوں ۔

تبصرہ کریں