بلاگ نامہ

آہ۔۔ ہمارے پیارے ابو جی

8120

یہ 3 مئی 2016 کا دن تھا اور وقت ظہر کا تھا جب ہمارے پیارے ابو جی اس فانی دنیا سے کبھی نہ ختم ہونے والی دنیا میں تشریف فرماگئے۔ وہ وقت قیامت سا تھا جب ابو جی نے اپنی آخری سانسیں ہمارے ہاتھوں میں لیں۔ ابوجی اور میرا ساتھ اللہ رب العزت نے صرف 20 سال کا مختصر عرصہ ہی مقرر کیا تھا۔ ابو جی نے اپنی زندگی میں بیماری اور تکالیف کے باوجود تمام اولاد کو پڑھایا اور اچھی تربیت دی ابوجی کے ہر قدم میں امی جی نے بھرپور ساتھ دیا۔ یہ تقریبا 1995 کے قریب کی بات ہے جب ابو جی کو شوگر کی بیماری لاحق ہوگئی۔ ابو نے اسی بیماری کے ساتھ اپنی باقی کی زندگی گزاری۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ابو جی نے انسولین کو باقاعدگی سے لگایا جس کی وجہ سے ان کے جسم کو کوئی حصہ ایسا نہیں بچ پایا تھا جہاں اگر سوئی اوپر بھی رکھ دو تو درد سے ہائے نہ نکلے۔ لیکن اس سب کے باوجود ابوجی نے کبھی بھی اپنا کوئی کام کسی دوسرے کے ذمہ نہیں لگایا وہ اپنے کام خود کرتے تھے لیکن رب کو کچھ اور منظور تھا کہ ابو جی کو اس رمضان سے پہلے فالج کا حملہ ہوگیا۔ اس حملہ کے باوجود ابوجی نے کوئی کام کسی کو نہ کرنے دیا ابوکی کوشش رہی کہ سب خود کریں وہ لیکن پھر اگلے ہی دن قدرت کے حکم سے دوسرا فالج کا حملہ اسی حصہ پر ہوا اور ابو جی کو خود پر جو یقین تھا ٹھیک ہونے کا وہ بالکل ختم ہوگیا، چلنے پھرنے اور کسی بھی کام سے معذور ہوگئے لیکن ابوجی کی تربیت ایسی تھی کہ اولاد تکلیف میں نہ دیکھ سکتی تھی تو ہر کام چھوڑ کر سب نے اپنا وقت ابوجی کو دینا شروع کردیا۔ ابوجی ہمیں دیکھتے تو کھل اٹھتے اور رونے لگتے کہ اللہ نے مجھے تو مصیبت میں ڈالا لیکن میری اولاد کو کیوں مصیبت میں ڈال دیا، نہ جانے باپ کی محبت اولاد کے لیئے رب نے ایسے ہی رکھی ہوتی ہے کہ وہ خود سب تکالیف برداشت کرلیتا ہے لیکن اولاد کو نہیں تکلیف میں دیکھ سکتا۔ لیکن ابوجی کی تکلیف اور محنت کا مقابلہ ہم اولاد کہاں کرسکتے ہیں۔

ابو جی کو دو فالج کے حملے تو ہوچکے تھے لیکن پھر 22 دن بعد اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ رب نے تیسرا فالج کا حملہ بھی اسی حصہ میں کردیا جہاں دو حملے پہلے ہوچکے تھے جس کی وجہ سے دماغ کا ایک حصہ اور دل نے اپنا کام چھوڑ دیا اور ابوجی ہمیں ہمیشہ کے لیئے چھوڑ کر اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس دن سے آج تک لگتا ہے جیسے سر پر جو ایک شفقت کا ہاتھ تھا وہ سر پر سے اٹھ گیا ہے۔ نہ کھانے میں لذت رہی ہے نہ دنیا کے کسی اور کام میں بس اگر کچھ سکون آتا ہے تو ابوجی کی قبر پر جاکر اور اللہ کو یاد کرکے آتا ہے۔

ابوجی کی ہمیشہ سے چار خواہشات رہی ہیں کہ میرے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد تمام کام میری اولاد ہی انجام دے، مجھے جلدی دفنایا جائے، میرا جنازہ جامع مسجد بیت السلام میں پڑھایا جائے اور میری قبر گزری قبرستان میں ہو۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ یہ سب خواہشات ابوجی کی پوری ہوگئیں۔

ابوجی کے جنازے کا وقت بعد نماز عشاء رکھا گیا عام طور پر عشاء کی نماز میں نمازیوں کی تعداد کم ہوتی ہے لیکن اس دن مسجد میں جنازہ پڑھنے والوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی یہاں تک کہ قبرستان میں دفنانے بھی 70  کے قریب افراد گئے تھے۔ شائد یہ اللہ کے نیک لوگوں کی خوش قسمتی ہوتی ہے۔

میں نے کبھی بھی زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ مجھے صرف 20 سال کی عمر میں اپنے ابوجی کو قبر میں اتارنا ہوگا یہ منظر جب بھی آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو بے اختیار آسنو کا دریا بہہ جاتا ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ابوجی کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں اور ساتھ ہی ہماری زندگی میں بھی آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین

انا للہ وانا الیہ راجعون

ٹیگز:

20 تبصرے برائے “آہ۔۔ ہمارے پیارے ابو جی”

  1. نعمان یونس says:

    بہت افسوس ہوا۔
    اللہ آپ سب گھر والوں کو استقامت دے اور آپ کے والد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام دے۔ آمین

  2. صفی الدین says:

    اللہ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اہل خانہ پر رحمت کی بارش عطا فرمائے

  3. نسرین غوری says:

    اللہ تعالیٰ تمہیں صبر دیں بچے ، اور تمہارے والد کے درجات بلند کریں ۔۔اس نقصان کا عمر سے کوئی تعلق نہیں۔ عمر بیس سال ہو یا 50 سال، بے سروسامانی ایک سی محسوس ہوتی ہے۔ میری والدہ ایک برس پہلے تقریباً اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں، میری آنکھوں کے سامنے انہوں نے تین گہرے اور طویل سانس لیے اور بس ختم ۔۔ پورے 26 دن تک وہ بس ہمیں دیکھ سکتی تھیں ، نہ کوئی حرکت کر سکتی تھیں اور نہ ہی کچھ بول سکتی تھیں، ان کو خود پر جمی ہوئی بے بس اور لاچار نگاہیں آج بھی میرے رونگٹے کھڑے کردیتی ہیں، کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کاش یہ آخری ایک مہینہ امی کی زندگی میں نہ آیا ہوتا ، وہ اچانک ایک صبح سوتی کی سوتی رہ جاتیں تو آج ہماری نظروں میں ان کی آخری شبیہہ چلتی پھرتی زندہ شبیہہ ہوتی۔ پر
    ابھی کچھ دن لگیں گے
    دل ایسے شہر کے برباد ہوجانے کا منظر بھولنے میں
    ابھی کچھ دن لگیں گے۔

    1. آمین اور اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائیں. آمین

  4. بہت افسوس ہے، امر ربی ہے، ہر نفس کو جانا ہی ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے والد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دیں اور آپ سب اہل خانہ کو صبر عطا فرمائیں۔ آمین

  5. والدین کا سایہ ایسی چیز ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ آپ کے اس دکھ کو صرف آپ ہی سمجھ سکتے ہیں۔
    ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے والد اور تمام امت مسلم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی اگلی تمام منزلیں آسان فرمائے، آمین

  6. حجاب says:

    ہمت اور حوصلہ قائم رکهو بلال اللہ تمہیں صبر دے آمین …

  7. اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں!

    1. اللہ قبول فرمائیں. آمین

  8. محمدزبیرمرزا says:

    اللہ تعالیٰ آپ کے والد کے درجات بلند کریں اور آپ ان کے لیے صدقہ جاریہ بنیں – اب وہ سایہ دارشجرسے بدل کر ابرکی صورت آپ کے سرپہ
    سایافگن رہیں – والدین دنیا سے رخصت ہوکربھی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں ان شاءاللہ آپ کو ہردم ہرجگہ ان کی موجودگی محسوس ہوگی – آپ صبرکریں اللہ تعالٰی صبرکرنے والوں کے ساتھ ہیں –

  9. علی حسن says:

    اللہ تعالیٰ آپ کے والد کے درجات بلند کریں۔
    یار آپ پھر بھی ایک طرح سے خوش قسمت ہو کہ کم از کم اپنے ابو کو دیکھ کر بڑے ہوئے ہو۔ میری تو 27 سال عمر ہے اور 26 سال میرے ابو کے وفات کے ہوئے ہے۔ اب آپ ہی بتاؤ کہ میں نے تو دیکھا بھی نہیں

    1. بے شک. اللہ آپ کے والد کے درجات بلند فرمائے آمین.

  10. Aamir says:

    اللہ آپ کے والد کے درجات بلند فرمائے، انہون نے جتنی تکلیف اس دنیا میں برداشت کی ہے اس کے بدلے آخرت کی منازل آسان ہوں گی۔ انشاءاللہ۔
    آپ سب کو حوصلہ، صبر ،استقامت اور آسانیاں نصیب فرمائے۔ آمین

تبصرہ کریں