بلاگ نامہ

انٹرنیٹ سے پیسہ کمانا فراڈ اور حقیقت

آپ نے بہت جگہ پڑھا ہوگا کہ انٹرنیٹ سے پیسہ کمانا خواب نہیں رہا بلکہ آپ بھی اب کماسکتے ہیں گھر بیٹھے اپنے کمپیوٹر سے کسی بھی وقت کچھ گھنٹے صرف کرکے، لیکن یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے جبکہ کمانا آسان نہیں ہے، اس کے لیئے آپ کو بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ لوگ آپ کو باآسانی لالچ میں لاکر آپ کو لوٹ لیتے ہیں اور آپ کو حقیقت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ لوگ رابطہ کرنے پر یہ کہتے ہیں آپ کون ہیں ؟۔
آج کل کچھ لوگ اسی طرح کے کام کررہے ہیں مختلف فورمز ، سوشل نیٹ ورکس وغیرہ پر کچھ اس طرح کے جملے وغیرہ پوسٹ کرتے ہیں جیسے ، ہم آپ کو امیر بنادیں گے ہم سے رابطہ کریں ، جب کراچی میں بیٹھا 12 سال کا بچہ روزانہ انٹرنیٹ سے 40 سے 60 ڈالر کمارہا ہے تو آپ کیوں نہیں ؟ ، ہم آپ کو انٹرنیٹ سے کمانے کا بہترین طریقہ بتائیں گے فیس صرف 2000 روپے ، صرف 80 ڈالر لگائیں 40 ڈالر روزانہ حاصل کریں بلکل آسانی کے ساتھ گھر بیٹھے ، غرض اس طرح کے بے شمار جملے آپ کو پڑھنے کو ملتے ہوں گے۔اس کے علاوہ پی ٹی سی ویب سائٹس یعنی Paid to Click وغیرہ بھی بے شمار موجود ہیں۔ ان سب کام کی حقیقت یہ ہے کہ 95 فیصد جعل سازی پر مشتمل ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کو بیوقوف بنا کر ان سے پیسہ حاصل کرنا ہے۔
کیا انٹرنیٹ پر پیسہ کمانا ممکن نہیں ہے ؟
انٹر نیٹ پرپیسہ کمانا بلکل ممکن ہے لیکن اوپر بیان کیئے گئے طریقے 95 فیصد جعلی ہوتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر پیسہ کن طریقوں سے کمایا جاسکتا ہے نیچے کچھ طریقے بیان دیئے جارہے ہیں۔

  • بلاگنگ
  • ویب سائٹس
  • فری لانسنگ

فلحال یہ تین طریقے کارآمد ہیں۔

بلاگنگ

بلاگنگ سے کمانا اس صورت میں کارآمد ہے جب آپ بلاگ انگریزی میں بنائیں اور اس پر انگریزی زبان میں بلاگنگ کریں ، کیونکہ انگریزی زبان کو ہر جگہ عادت بنالیا گیا ہے ، اردو زبان میں بلاگنگ کرکے آپ صرف لوکل کمپنیوں سے رابطہ کرکے یا انہیں رضامند کرکے ان کے اشتہارات لگا کر کماسکتے ہیں، جوکہ بہت مشکل کام ہے، بلاگنگ کے لیئے ایک ضروری عمل یہ ہے کہ آپ بلاگ پر جو شامل کریں وہ مواد کہیں سے کاپی شدہ نہ ہو ، خالص آپ نے خود تحریر کیا ہو۔ اس کام کے لیئے بھی محنت بہت ضروری ہے گوگل ایڈسنس وغیرہ کو لگا کر آپ اچھی آمدن ایک بلاگ سے حاصل کرسکتے ہیں۔گوگل ایڈسنس کی شرائط بہت سخت ہیں اگر ان کی خلاف ورزی ہوئی تو آپ کا گوگل ایڈسنس اکاؤنٹ بلاک کردیا جائے گا۔ایڈسنس کے حوالے سے ایک بات جوکہ بہت ضروری ہے کہ کبھی بھی کسی سے ایڈسنس اکاؤنٹ پیسوں کا حاصل نہیں کریں ، کیونکہ یہ اکاؤنٹ بہت جلد گوگل کی جانب سے بند کردیئے جاتے ہیں۔ گوگل خود ایڈسنس کا اکاؤنٹ مفت میں مہیا کرتا ہے۔

ویب سائٹس

ویب سائٹس سے کمانے کا طریقہ بھی بلکل بلاگ سے کمانے جیسا ہی ہے، لیکن اگر آپ کی ویب سائٹ کو بہت جلد مقبولیت حاصل ہوجائےتو آپ کو اشتہارات خود موصول ہونے شروع ہوجاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ سب سے زیادہ ریٹ رکھنے کے باوجود کمپنیاں رضامند ہوجاتی ہیں۔

فری لانسنگ

فری لانسنگ کا طریقہ نہایت کارآمد ہے۔ اگر آپ کسی کام میں مہارت رکھتے ہیں تو وہ کام آپ کسی کے لیئے کرکے آسانی سے کماسکتے ہیں۔ جیسے آپ کو گرافک ڈیزائنگ میں مہارت حاصل ہے تو آپ اپنی خدمات پیش کرکے ان خدمات کا معاوضہ وصول کرسکتے ہیں۔لیکن فری لانسنگ میں بھی فراڈ ہوتا ہے جیسے آپ کسی کو کوئی کام کرکے پہلے دے دیتے ہیں اور وہ آپ کو معاوضہ بھی نہیں دیتا۔ اس لیئے آپ کو یہاں بھی محتاط ہوکر کام کرنا پڑتا ہے۔فری لانسنگ کی مشہور ویب سائٹس یہ ہیں۔

ان سب کے باوجود اگر آپ انٹرنیٹ کو چھوڑ کر اصل زندگی میں کمانا چاہیں تو بہت کم عرصے میں زیادہ کماسکتے ہیں۔

24 تبصرے برائے “انٹرنیٹ سے پیسہ کمانا فراڈ اور حقیقت”

  1. میں کوئی ایک درجن دومین اور سائیٹس اور بلاگ پر ایڈ سینس کا کوڈ لگا کر ایک سال سے اوپر کا عرصہ دیکھ رہا ہوں
    اب تک صرف دوہزار پاک روپے کے قریب کی رقم بنی ہے
    ماہان امدن یا روزانہ امدن کی کہانیاں مجھے تو سچ نہیں لگتی

    1. ماہانہ آمدن حاصل ہوسکتی ہے لیکن بہت محنت کے بعد اس کے علاوہ روزانہ آمدن تو تقریباً کہانیاں ہی ہیں۔
      اسی لیئے میں نے آخر میں یہ جملہ شامل کیا ہے ۔

      ان سب کے باوجود اگر آپ انٹرنیٹ کو چھوڑ کر اصل زندگی میں کمانا چاہیں تو بہت کم عرصے میں زیادہ کماسکتے ہیں۔

      1. فرقان says:

        آپ نے آخر میں بہت اچھی بات لکھی اصل زندگی میں پیسہ کمانا انٹرنیٹ کے مقابلے میں کافی آسان ہے

  2. اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان سہولت پسند ہے اور یہی سہولت پسندی انسان کو اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر کام کر کے پیسے کمانے کے چکر میں پھنسا دیتی ہے۔ لیکن
    سوال یہ ہے کہ اگر پیسے کمانا اتنا ہی آسان ہوتا تو کیا یہ لوگ پاگل ہیں جو خود پیسے کمانے کے بجائے سوشل میڈیا پر لنک پوسٹ کرتے پھرتے ہیں کہ آؤ ہم آپ کو روزانہ سیکڑوں ڈالر کمانے کا گر سکھاتے ہیں۔

    کوئی بھی کام ہے اس سے کمائی محنت سے ہوتی ہے۔ لیکن شرط ہے کہ محنت درست جگہ اور درست طریقے سے کی جائے۔۔ لیکن یہ ایک عام رجحان بن گیا ہے کہ لوگ کمپیوٹر پر 15 گھنٹے بے تکی محنت کرتے رہیں گے لیکن حقیقی زندگی میں 2 گھنٹے کام کرنے کے لیے بھی راضی نہیں ۔ حالانکہ اگر حقیقی زندگی میں 10 گھنٹے کام کریں تو کئی گناہ زیادہ کما سکتے ہیں۔

    انٹر نیٹ سے کمانے کے جن طریقوں کی جانب آپ نے رہنمائی کی ہے وہ حقیقی طریقے ہیں جن میں محنت کے ساتھ مہارت بھی درکار ہے، اگر کوئی ان پر دسترس رکھتا ہے تو پھر اسے ضرور قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔

    بلاگ اور ویب سائٹ پر کافی محنت درکار ہے جس کے لیے صبر لازم ہے۔ جبکہ فری لانسنگ قدرے آسان ہے اور فوری معاوضے کے ساتھ انسان کا حوصلہ بڑھانے میں مدد و معاون بھی ۔
    لیکن شرط وہی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ محنت محنت اور محنت ۔۔۔ کیوں کہ فری لانسنگ میں معیار اور وقت پر کام کی ادائیگی شرط اول ہے۔

    1. محنت کے بغیر تو واقعی کچھ نہیں ملتا۔ فری لانسنگ میں بے شمار لوگوں کی شمولیت ہونے کی وجہ سے اب فری لانسنگ میں بھی اپنی پہچان بنانے کے لیئے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر ایک دفعہ آپ اپنی پہچان بنانے اور اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو آپ کے پاس پروجیکٹس کا انبار جمع ہونے لگ جاتا ہے۔ بات گھوم کر پھر وہیں آتی ہے کہ صبر اور محنت بہت ضروری ہے ان دونوں کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔

      1. Aftab Ahmad says:

        asalam o alaikum bhai men sabr kroun ga koi asan si web site to btao plz
        beshak din min thore hi ayen

  3. بہت خوب۔۔۔۔ لیکن جو یہ آج کل جو اشتہار چل رہا ہے جس میں اس کے منجانب گوگل ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کو انٹرنیٹ کا استعمال آتا ہے تو آپ ایک مہینہ میں 3000 ڈالر یا اس سے زیادہ بھی کما سکتے ہیں۔ اس اشتہار کی کیا حقیقیت ہے؟

    1. منجانب گوگل ان اشتہارات کے ساتھ لکھا ہوتا ہے جو اشتہارات گوگل کے پروگرام ایڈسنس کے ذریعے انٹرنیٹ پر شایع ہوتے ہیں۔ لیکن ان اشتہارات میں اس طرح کے اشتہارات بھی تقریباً جعلی ہوتے ہیں۔ آج کل منجانب گوگل یا Ads By Google خود سے لکھ کر بھی لوگوں کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔

  4. انٹر نیٹ کے ذریعے پیسے کمانے کی ایک دو بار میں نے بھی کوشش کی تھی ،پھر معلوم ہوا کہ اتنی محنت اگر بندہ عام زندگی میں کرئے تو کافی کما سکتا ہے۔
    آپ کا کالم پڑھ کر علم میں مزید اضافہ ہوا۔

    1. انٹرنیٹ کی کمائی کو صرف پارٹ ٹائم رکھا جائے تو بہتر ہے

  5. بلال بھائی آپ کی باتوں سے سوفیصدی متفق ہوں کہ جو لوگ سوشل میڈیا پہ بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں وہ زیادہ تر فراڈ پہ مبنی ہیں لیکن بھائی جان کچھ سائٹس واقعی ایسی ہیں کہ جن پہ کام کرنے سے آپ کو پیسے ملتے ہیں لیکن وہ اتنے زیادہ نہیں ہوتے اور ان پہ محنت بہت کرنی پڑتی ہے اور اس کے علاوہ ان میں پیچیدگیاں بھی بہت ہیں ۔ ایسی ہی ایک ویب سائٹ کے ساتھ میں تقریبا پچھلے 4 یا 5 ماہ سے منسلک ہوں اور روزانہ کام کررہا ہوں اور ابھی تک اس عرصے میں میں 12 یا 13 ہزار روپے کما پایا ہوں لیکن جو رقم میں خرچ کی تھی یعنی کہ ان کے اکائونٹس حاصل کرنے کےلئے وہ تقریبا دس ہزار تھی یعنی کہ پانچ ماہ میں دس ہزار انویسٹ کرکے اور روزانہ کام کرکے صرف 12 ہزار کما پایا ہوں لیکن ابھی آگے کام کرنا کافی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

    اور بھائی جو کمائی کے طریقے آپ نے بتائے ہیں وہ درست ہیں اور ان کے علاوہ ایک طریقہ Article Writing کا بھی ہے اور اس سے بھی آپ اچھا خاصہ کما سکتے ہیں لیکن میرے خیال سے آن لائن کمائی کو ہمیں پارٹ ٹائم کے طور پہ لینا چاہئیے اور حقیقی زندگی میں محنت کرنی چاہئیے۔

    شکریہ والسلام

    1. حقیقت میں کمانے سے جو مزہ ملتا ہے وہ انٹرنیٹ سے آسانی سے نہیں مل سکتا ۔ بلکہ میرے خیال میں تو انٹرنیٹ پر اصل زندگی سے زیادہ محنت اور پیسہ کی ضرورت ہے۔

  6. بہت خوب لکھا جناب آپ نے، گوگل والوں کو پتا نہیں اردو سے کیا بغض ہے۔ میں نے بھی ٹرائی کیا تھا امیر ہونے کا۔ پر میرے بلاگ کی زبان پر اعتراض لگا کر کمینوں نے ایڈ سینس ہی نہی چلایا۔ خیر بہت اعلٰی بات لکھی آپ نے، ایسے دھوکے اور فراڈ کا شکار وہ بے کار لوگ ہوتے ہیں جو راتو رات امیر ہونے کے چکر میں بیواقوف بن جاتے ہیں۔

    1. محنت اور لگن کے بغیر اگر انسان امیر ہوسکتا تو آج ہر کوئی امیر ہوتا ۔ لوگ لالچ میں آکر دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔

  7. محمد اصغر says:

    فری لانسنگ کے زمرے میں ایک کام ترجمہ یا پروف ریڈنگ کرنا بھی ہے۔ اور اگر کام ملتا رہے تو یہ بھی کمائی کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔

    1. جی بلکل ! اور اس کام کو کرکے کافی لوگ فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں ۔

  8. بلال بھائی! آپ نے بجا فرمایا مگر!
    PTC یعنی Paid to Click کے کام کے بارے میں آپ کی رائے قدرے غلط ہے (میں یہ نہیں کہتا کہ مکمل طور پر غلط ہے)، اِس میں سینکڑوں تو بِلا شبہ نہیں لیکن بیسیوں ایسی ویب سائٹس ہیں جو اچھا کام کر رہی ہیں اور پچھلے 5 سے 8 سالوں سے اِس میدان میں سرگرمِ عمل ہیں، میں یہ بھی نہیں کہتا کہ اِن سے “روزانہ آمدن (بقول آپکے) ” ممکن ہے لیکن اِن کے ساتھ اگر دیانت داری سے کام کیا جائے تو آپ اپنی “ماہانہ آمدن” میں “خاطر خواہ” اضافہ کر سکتے ہیں (جیسا کہ گُوگل ایدسینس والے کہتے ہیں کہ اگر آپ ہمارے ساتھ مخلصانہ کام کریں گے تو ہم آپ کی زندگی بدل دیں گے)، لیکن ایک بات ہے کہ اِس میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت اور انتظار کرنا پڑتا ہے، اسی لیے میں بھی آپ کے قول (ان سب کے باوجود اگر آپ انٹرنیٹ کو چھوڑ کر اصل زندگی میں کمانا چاہیں تو بہت کم عرصے میں زیادہ کماسکتے ہیں۔) کی حمایت کرتا ہوں۔

    میرا مشورہ، میرے انجان بھائیوں کے لیے:

    بلال بھائی کی بات پر کان دھریں اور کسی بھی قسم کے “ایڈونچر” سے دور رہیں اور اپنی رقم برباد مت کریں۔

    1. پہلے تو آپ کا شکریہ اس کے بعد عرض ہے :
      PTC اور گوگل ایڈسنس دو مختلف چیزیں ہیں ان کے بیچ کا تعلق زمین آسمان کے برابر ہے ۔ PTC وہ ویب سائٹس ہوتی ہیں جو مختلف اشتہارات دیکھنے کے کچھ سینٹ دیتی ہیں جبکہ گوگل ایڈسنس ایک اشتہارات کا اداراہ ہے اور ایڈسنس جیسے تمام اداروں کا تعلق پی ٹی سی سے نہیں ہے ، شاید آپ ایڈز کمپنی اور پی ٹی سی ویب سائٹس کے فرق کو نہیں سمجھے ۔ PTC کی چند ہی ویب سائٹس ہیں جو پیسے دیتی ہیں باقی 95 فیصد فراڈ ہیں ۔ یہ میں اس لیئے کہہ رہا ہوں کیونکہ میں اس پر تحقیق کر چکا ہوں ۔

      1. آپ نے درست فرمایا کہ PTC اور Adsense میں زمین و آسمان جتنا فرق ہے، میں نے تو بس ایسے ہی وہ فقرہ شاملِ سطر کر دیا تھا۔ اور آپ نے یہ بھی درست کہا کہ PTC ویب سائٹس صرف چند” سینٹس “ہی دیتی ہیں، لیکن اِن میں Referral/ Affiliate کے ذریعے اپنی آمدن میں اِضافہ ممکن ہے اور کِیا جاتا ہے۔ باقی آپ کی تحقیق درست ہے کہ ان میں 95 فیصد سے زیادہ ویب سائٹس لوگوں کے ساتھ فراڈ کرتی ہیں، لیکن اِن کی وجہ سے ہم اُن ویب سائٹس کو نظر انداز نہیں کر سکتے جو سالہ سال سے اچھا کام کر رہی ہیں اور اپنے ممبرز کو پیسے ادا کر رہی ہیں۔

        اِس کے علاوہ، بصدِ احترام، میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ میں خود بھی گذشتہ 3 سالوں سے PTC ویب سائٹس کے ساتھ کام کر رہا ہوں اور اِن کے بارے میں (آپ کی طرح) کافی علم رکھتا ہوں۔

        بہرحال! آپ کی توجہ کا بہت بہت شکریہ! اُمید ہے کہ آئندہ بھی یہ توجہ حاصل رہے گی۔

        1. جی بلکل ہم ان ویب سائٹس کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو پیسے ادا کرتی ہیں ۔

  9. Syed Mujahid Shah says:

    السلام علیکم ۔ انٹرنیٹ پر کمانے کے بارے میں تمام دوستوں اور بھائیوں کی خدمت میں میں بھی کچھ اظہار رائے کرنا چاہتا ہوں۔سارے دوستوں کی تحریروں سے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ یہ کام اگر ممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے اور اپن قیمتی وقت برباد کرنے کے مترادف ہے اور ان دوستوں سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں جنہوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ یہی وقت جو اس میں خرچ ہوتا ہے اس سے کم وقت میں آسانی کے ساتھ دیگر ذرائع سے زیادہ کمایا جا سکتا ہے۔

    1. وعلیکم السلام
      بلاگ پر تشریف لانے اور اپنی قیمتی رائے دینے کے لیئے شکریہ

  10. Main ny apka blog visit keya bohot acha laga. umed or meri dua ha k ap jald kameyabi Hasil karangy. ap se ek request ya ha k bloging main meri madad kary. main apna blog apky sath share karta hu mujh bloging main kuch problems drpesh hain unha dur karny ky liya ap meri madad karsakty ho. than
    Facebook: muhbat.danish
    http:newintheworldamazing.blogspot.com

تبصرہ کریں