بلاگ نامہ

ڈاکٹر صاحبہ نہیں یہ غلط ہے

ڈاکٹر عنیقہ ناز اردو بلاگستان کی وہ باہمت خاتون تھیں جو اپنی بات پر ڈٹ کر مقابلہ کرتی تھیں۔ان سے زیادہ تر اردو بلاگرز نظریاتی اختلاف رکھتے تھے۔جن میں ان سے اختلاف رکھنے والا ایک شخص میں بھی تھا۔کئی دفعہ ان کے ساتھ کسی معاملہ کو لیکر بحث ہوجاتی تھی،اور یہ بحث تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی کے ساتھ جاری رہتی تھی۔اس طرح وہ ہمیشہ میری فیس بک وال پر ہی نظر آتی رہتی تھیں،کبھی وہ اپنی بیٹی ( مشعل ) کے بارے میں لکھتیں ، تو کبھی مشعل کے اسکول فنکشن کے بارے میں لکھتیں۔کبھی وہ قرآنی آیات پوسٹ کرتیں تو کبھی اپنے خیالات ، لیکن ان کے اسٹیٹس میں سب سے زیادہ ذکر ان کی بیٹی مشعل کا ہوتا تھا ، مشعل کو اسکول لے جاتے ہوئے یا اسکول سے گھر لاتے ہوئے جو جو واقعات پیش آتے تھے ان کے اسٹیٹس میں ان واقعات کا ذکر ہوتا تھا۔لیکن پچھلے دو دن سے ان کا کوئی اسٹیٹس موصول نہیں ہوا۔پھر میں نے جاننے کی کوشش کی تو کل معلوم ہوا کہ ان کا انتقال ہوچکا ہے ، انتقال کی وجہ جاننا چاہی تو معلوم ہوا کہ مشعل کو اسکول سے گھر لاتے ہوئے روڈ ایکسیڈنٹ ہوا جس میں اللہ نے مشعل کو تو زندہ بچا لیا مگر ڈاکٹر صاحبہ کو اللہ نے اپنے پاس بلالیا۔بزرگوں سے سناہے کہ ” اللہ کو اپنے بندہ کی کوئی بات پسند آجائے اور اللہ اس بندے سے خوش ہوجائے تو اللہ اس بندے کو اپنے پاس جلد بلالیتا ہے “۔ اس موت کا دکھ ہر اردو بلاگر کو دکھی کرگیا اور سب سے زیادہ تو دکھ ان کے شوہر اور بیٹی کوملا ۔ اتنی کم عمری میں ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔

یقین کرنا مشکل ہے لیکن کیا کریں ہر جاندار اللہ کی امانت ہے اور نہ جانے کب کسے اللہ واپس بلا لے ۔ زندگی اور موت کا تو کسی کو معلوم نہیں ۔ کب کون یہ دنیا چھوڑ جائے اور پیچھے دکھوں کی ایک لمبی داستان حقیقت بن جائے ۔ ڈاکٹر صاحبہ کی موت کے غم نے ہر آنکھ کو نم کردیا ۔ جب ایک ایسا شخص جس کے خیالات آپ کی آنکھوں کے سامنے آتے رہیں اور آپ کبھی ان سے اختلاف کریں تو کبھی حمایت ، جب یوں اچانک سے یہ فانی جہاں چھوڑ جاتا ہے تو غم کی شدت الفاظ میں بیان کرنے کے قابل نہیں رہتی ہے ۔

نہ جانے کیوں کل سے مجھے ان کے ایک فیس بک اسٹیٹس پر کیا گیا تبصرہ باربار یاد آرہا ہے ۔

آپ کو یا مجھے اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ میں اور آپ اس وقت زندہ نہیں ہوں گے ۔

اناللہ و اناالیہ راجعون

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کے چھوٹے بڑے گناہ اور غلطیوں کو درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ، اور اللہ تعالیٰ ان کے خاندان کے افراد خصوصاً ان کی بیٹی اور شوہر کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین

8 تبصرے برائے “ڈاکٹر صاحبہ نہیں یہ غلط ہے”

  1. انا للہ و انا الیہ راجعون
    اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے – آمین

  2. اللہ سبحان تعالیٰ ان کی سب غلطیاں اور صغیرہ و کبیرہ گناہ بخش کر مغفرت فرمائے۔ الہی آمین

  3. اب کون ان کے جیسے انوکھے اور بولڈ سوالات کیا کرے گا؟ کون تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے لائے گا؟ ان کے نظریات سے لاکھ اختلافات کے باجود ان جیسی علمی گفتگو اب کون کرے گا؟ حقیقت میں اب فیس بک پر اردو کمیونٹی کے علمی مباحثوں کی رونق مانند پڑ جائے گی۔ فیس بک پر لاگ ان ہونے کے بعد ان کی کمی واضح محسوس ہو رہی ہے۔
    اللہ کریم ان کے درجات بلند کرے۔ ان کی فیملی کو یہ سانحہ برداشت کرنے کا حوصلہ نصیب کرے! آمین!

  4. ایسا لگ رہا ہے کہ میرے گھر کے کسی فرد کا انتقال ہو گیا ہے۔ نہایت افسوس ناک خبر ہے ۔

  5. اسمیں کوئی شک نہیں کہ باوجود ہزار اختلاف۔ وہ نہائت متحرک بلاگرہ اور ایک محبت کرنے والی ماں تھیں۔
    اللہ تعالٰی۔انہیں جوار رحمت میں جگہ دے ۔ اور ان کی صاحبزادی اور لواحقین کو اس اچانک صدمے پہ صبر جمیل عطا کرے۔

  6. میں ان کے بلاگ کا ایک عرصہ قاری رہا، ان کی تحریریں طویل ہوتی تھیں، تبصرے ان سے طویل ہوتے تھے، لیکن ہر ایک تبصرے کا شائستگی سے جواب دینا میں نے ان سے سیکھا۔
    اللہ انہیں اپنے قرب میں رکھے۔ آمین

  7. رضوان says:

    .إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

تبصرہ کریں