بلاگ نامہ

زمرہ: معاشرہ

مائیکروفون اور اسکرین والی عینک

جیمز بانڈ کی جانب سے دکھائی جانے والی فلموں میں تمام چیزیں اب آہستہ آہستہ حقیقت میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں۔اسی سلسلے میں گوگل نے ایک ایسا چشمہ تیار کرنے کا ارادہ کیا ہے جس میں ایک ڈیوائس نصب کی جائے گی جس کے ذریعے مختلف کام لیئے جاسکیں گے۔ گوگل کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان معلومات کو ابھی شائع کرنے کا مقصد لوگوں کی رائے اور مفید مشورے حاصل کرنا ہے۔ اس چشمے پر جاری کی گئی ایک ویڈیو سے معلوم ہوتا ہے کہ صارفین کو اس چشمہ کے ذریعے چودہ سہولیات میسر ہوں گی ، جن میں موسم ، پرانی ملاقاتوں کی یاد دہانی اور مقامات وغیرہ کے بارے میں معلومات مل سکیں گیں۔ اس چشمہ پر بنائی جانے والی ویڈیو فلم میں دکھایا گیا ہےکہ جب ایک چشمہ استعمال کرنے والا کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے تو اسے خبر دار کیا جاتا ہے کہ بارش میں 10 فیصد امکانات ہیں اور جب وہ دیواز کی جانب دیکھتا ہے تو اسے اپنی ایک پرانی ملاقات یاد آتی ہے۔ اس چمشہ کے متعلق کافی باتیں سننے کے مل رہی تھیں لیکن اب گوگل کے اعلان کے بعد یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ گوگل… مزید پڑھیں »

استاد اور طالب علم

استاد ایک ایسی شخصیت ہے جو ایک بچے کو دنیا کے بارے میں پرکھنا سکھاتی ہے۔اسے استاد یہ بتا تا ہے کہ وہ کون ہے ، وہ کہاں سے آیا ہے ، اسے کہاں جانا ہے ، اس کا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے ، اس کا اصلی مالک کون ہے ، وہ کس کا غلام ہے ، اسے کس کی عزت کرنی ہے اور کس کی نہیں ، استاد بچہ کی شخصیت نکھارنے میں اسے سنوارنے میں اسے بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے ، لیکن آج کے دور میں بچے کی درسگاہ ماں کی گود کم اور محلے کی گلی کے بچوں کے ساتھ زیادہ ہے۔لوگ کہتے ہیں یہ بچے خراب ہیں ، سوال بنتا ہے انہیں خراب کون کرتا ہے۔بچا جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ہر کام کے لیئے مجبور ہوتا ہے۔اس کی تربیت اس کی پیدائش کے بعد شروع ہوتی ہے۔ آج کے اس دور میں بچے کی پہلی درسگاہ وہ ماں کی گود ہے جس میں بچہ آرام محسوس کرتا ہے ، وہ ماں نہیں جو بچے کو چھوڑ کر بازاروں میں شاپنگ کو زیادہ ترجیح دیتی ہے… مزید پڑھیں »

ایک تحریر احمد فراز کے بارے میں

احمد فراز شاعری میں نام پیدا کرنے والی ایک مشہور و معروف شخصیت۔احمد فرراز کا اصل نام سید احمد شاہ ہے لیکن آج وہ اپنے تخلص ”فراز“ سے مشہور ہیں۔احمد فراز جنوری 14 سال 1931 کو صوبہ سرحد ( پختون خوا ) کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔احمد فراز کے والد کا نام برق کوہاٹی ہے۔احمد فراز کے والد بھی مشہور شاعر تھے۔انہوں نے فارسی اور ایم اے پشاور یونیورسٹی سے کیا۔اس کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔اور ریڈیو پاکستان میں اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔اس کے بعدنیشنل سینٹر میں ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔اسلام آباد میں موجود نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئر مین بھی رہے۔نیشنل بک فاؤنڈیشن سے انہیں ملازمت سے فارغ کردیا گیا ، جس کی وجہ احمد فراز کے مطابق ٹی وی چینل کو انٹرویو دینا تھا۔ مختلف ممالک کے دورے بھی کیئے اور شاعری کے ایوارڈ بھی جیتے۔احمد فراز کی شاعری کے مختلف مشہور زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے جن میں فرنگی، پنجابی ،روسی ، فرانسی اور جرمن سر فہرست ہیں۔ان کو سب سے زیادہ شہرت ضیاء الحق کے مار شل لاء کے خلاف شاعری کر نے پر ملی۔احمد فراز صاحب نے خود ساختہ جلا وطنی بھی کاٹی۔انہوں نے سال 2000 میں ”ہلال امتیاز“… مزید پڑھیں »

سال 2011 کے اہم واقعات

بسم  الله الرحمن الرحیم 2011 میں پیش آنے والے واقعات میں سب سے زیادہ مقبول اور سر فہرست واقعہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ہے.دیگر اہم واقعات کی فہرست درج ذیل ہے. سندہ میں آنے والا سیلاب ڈینگی کا حملہ کراچی میں ہونے والی بد امنی میں اضافہ کلر کہار میں پیش آنے والا بس حادثہ ڈرون حملے ہوئے مہمند چوکی پر حملہ امریکا پر شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا جس کے بعد شمسی ایئر بیس کو خالی کرا لیا گیا ڈرون حملوں میں کمی نیٹو کے ٹریلرز پر بم حملے مہران بیس کراچی پر دہشت گردوں کا حملہ سی آئی ڈی سینٹر پر خودکش حملہ کیا گیا امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں کشید گی آگئی صدر زرداری کی بیماری لیبیا کی حکومت کا خاتمہ جنرل قذافی کی ہلاکت جاپان میں زلزلہ اور سونامی عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کابل میں برطانیہ کے سفارت خانہ پر حملہ کیا گیا مصر کے ساتھ ساتھ تیونس اور شام میں حکومتوں کے خلاف شدید مظاہرے جدہ میں آنے والا سیلاب یہ تمام فہرست تھی پاکستان سے لے کر بین الاقوامی ممالک میں سب سے زیادہ سر فہرست رہنے والے واقعات کی.مزید بہت واقعات گذشتہ گذرنے… مزید پڑھیں »

گیٹ آؤٹ طالبان

جیسا کہ عنوان ہے کے گیٹ آؤٹ طالبان آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ بھی کوئی طالبان کے بارے میں کالم یا بلاگ ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں بلکہ میں جو کالم آپ کو پڑھنے کے لیئے مہیا کر رہا ہوں یہ کالم مشہور اخبار “جنگ” میں کالم لکھنے والےصاحب “حامد میر” کا ہے۔اسے پڑھنے کے بعد آپ اپنے خیالات میرے سے ضرور شیئر کیجئے گا۔ سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈرامہ ہال میں پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب تقسیم انعامات جاری تھی۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبہ و طالبات کے والدین سے بھرا ہوا تھا۔ ان والدین میں شہر کے معروف لوگ شامل تھے۔ اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی جس میں حیرانگی کی کوئی بات نہ تھی۔ تقریب کی تمام کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اور انگریزی زبان جہاں بھی جاتی ہے اپنی تہذیب کو ساتھ لے… مزید پڑھیں »