بلاگ نامہ

زمرہ: معاشرہ

فلم پی کے اور بھگوان

آج پورے ایک سال ایک ماہ اور 13 دن بعد کچھ اپنے بلاگ پر لکھنے کو جی چاہا تو سوچا تھوڑا بہت آج کل جاری بحث فلم پی کے پر ہی لکھ دیا جائے۔ فلم پی کے ایک ہندی فلم ہے جس کا موضوع ہندی سینما کی روٹین فلموں سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ یہاں پی کے سے مراد پاکستان نہیں گوکہ اس فلم میں پاکستان کا بھی ذکر ہے اور یہ ذکر اچھے اور مثبت انداز میں ہے بلکہ ایسا شخص ہے جو شراب پیتا ہو لیکن اس فلم میں پی کے پان تو ضرور کھاتا ہے لیکن پیتا نہیں ہے مگر پھر بھی اسے ہر کوئی پی کے نام سے پکارتا ہے اور پھر یہی نام فلم کے مرکزی کردار کا اختتام تک رہتا ہے۔ فلم کوڈائریکٹ کیا ہے راج کمار ہیرانی نے اور مرکزی کردار پی کے ادا کیا ہے عامر خان نے۔ یہاں یہ بات یقین اور دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر اس کردار کو عامر خان کے علاوہ کوئی کرتا تو شاید فلم کامیاب نہ ہوپاتی۔ فلمی دنیا میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک اداکار پر مکمل پورے اترتے ہیں، عامر خان نے پی کے کے کردار کو نہایت ہی… مزید پڑھیں »

راولپنڈی سانحہ – اصل واقعہ ؟

کل دوپہر کے بعد راولپنڈی کے حالات شدید سے شدید خراب ہوگئے اور اب یہ صورتحال ہے کہ کرفیو لگا دیا گیا ہے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں فوج کے جوان گشت کررہے ہیں۔ یہ سب صورتحال کیسے پیدا ہوئی ؟ اس کے ساتھ بے شمار جھوٹے اور سچے واقعات اور ” فلمی اسٹائل “ کی کہانیاں جوڑ دی گئی ہیں۔ اس جھوٹی سچی خبروں میں عوام الجھ گئی ہے اس کا ذمہ دار میڈیا کے علاوہ کوئی نہیں کیونکہ ان کی خاموشی نے مزید فساد بڑھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ لوگوں اور واقعات کے مطابق مسجد میں مولانا صاحب شیعہ مخالف تقریر کررہے تھے اور جب جلوس وہاں سے گزرنے لگا تو انہوں نے تقریر بند کرنے کے بجائے جاری رکھی اور پھر پولیس سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی اسی طرح شیعہ حضرات نے بھی اسلحہ چھینا اور یہ سب ہوا لیکن اگر میں یہ کہوں کہ یہ واقعہ بلکل جھوٹ پر مبنی ہے تو اس میں ذرا بھی شک نہیں کیوں کہ یہ واقعہ پہلے تو خود تضادات پر مبنی ہے اور دوسرا اس واقعے کی کسی میڈیا پرسن یا وہاں پر موجود حضرات نے تصدیق نہیں کی۔ اب آتے ہیں اصل واقعہ… مزید پڑھیں »

سال 2012 کے اہم ملکی واقعات کا احاطہ

سال 2012 بھی اپنے اندر بے شمار غم ، خوشیاں سمیٹے ختم ہوکر 2013 کو سامنے لے آیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ہر آنے والا نیا سال پچھلے سال سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے ، اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو۔ سال 2012 پاکستان کے لیئے بہت مشکل اور کٹھن ثابت ہوا۔کہیں کسی کے گھر دکھ بن کر گزرا تو کہیں کسی کے گھر خوشی بن کر۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر ” روشنیوں کے شہر “ کراچی کے لیئے تو سال 2012 بہت ہی خطرناک ثابت ہوا ، جس میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ پیش آنے والا ایک خطرناک حادثہ گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ بھی شامل ہے۔اس تحریر میں 2012 کے دوران پیش آنے والے چند واقعات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات پولیو ٹیموں پر حملے ، ملالہ پر حملہ جس کی مذمت دنیا بھر میں کی گئی ، رینجرز کے کراچی میں واقع ہیڈ کواٹر پر حملہ ، گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ ، پشاور ایئر پورٹ پر حملے ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ، کامرہ ایئر بیس پر حملہ ، 21 ستمبر 2012 بروز جمعہ کو منائے جانے والے یوم عشق رسولﷺ کے… مزید پڑھیں »

کھیت کو صاف کرنا ہے یا گندہ ؟

ایک کھیت ہے اس میں اجازت ہے کہ یہاں کوئی بھی آئے ، یہاں کھیتی باڑی کرے یا پہلے سے موجود فصلوں سے فائدہ اٹھائے ۔ ایک دن اچانک سے ایک شخص آتا ہے وہ فصلوں پر کیچڑ پھینک کر چلاجاتا ہے ۔ کچھ لوگ اس کیچڑ کی وجہ سے اس کھیت کو استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اور آگے دیگر لوگوں کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ کھیت سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہم فائدہ اٹھائیں اور اس کھیت کو صاف کریں لیکن انہیں صفائی سے روکا جاتا ہے اور اس طرح کھیت گندہ ہوتا جاتا ہے اور فصلیں تباہ ہوتی جاتی ہیں ۔ اس کھیت سے مراد گوگل ، فیس بک ، یوٹیوب اور دیگر سوشل نیٹ ورکس ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والے ہم لوگ ہیں ، اب فیصلہ آپ کریں کہ آپ کھیت کی صفائی کریں گے اور اس میں دوبارہ سے صاف فصل کے لیئے بیج بوئیں گے یا کھیت کا استعمال چھوڑ کر دوسروں کو بھی تلقین کریں گے کہ نہ استعمال کریں ۔ جاگیں اور اپنی سوچ کو بلند کریں اور ان تمام سروسس کا فائدہ اٹھاکر دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچائیں ۔… مزید پڑھیں »

گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج ضرور لیکن پر امن کیوں نہیں ؟

چند دن پہلے سوشل میڈیا اور دیگر مسلم ممالک میں اچانک توہین رسالت ، گستاخ رسولﷺ کی مرتکب ایک فلم کے خلاف احتجاج میں تیزی آگئی ۔ احتجاج میں اضافہ ہونے کی خاص وجہ یہ ہے کہ فلم کو جب عربی زبان میں ڈب کیا گیا تو مسلمانوں کی سمجھ میں یہ آیا کہ اس فلم میں گستاخی کی گئی ہے ۔ کیا مسلمانوں کو انگریزی میں یہ فلم دیکھنے کے بعد سمجھ نہیں آسکا کہ اس فلم میں گستاخی کی گئی ہے ؟ یا مسلمانوں کو انگریزی میں جو کچھ بناکر دکھادیا جائے مسلمان اسے درست سمجھنے لگتے ہیں ؟ ۔ مسلم ممالک میں جاری احتجاج میں دن بدن تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ سفارت خانوں پر حملے کیئے جارہے ہیں ۔ جبکہ اسلامی قانون کے مطابق سفیر کو حالت جنگ میں بھی جان کی امان حاصل ہوتی ہے ۔ خیر یہ فلم بنائی گئی توہین کی گئی اور اس کے بعد اس فلم کو ابھی تک بند نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ سب مسلمانوں کے خلاف ہے ، اسلام کے خلاف ہے ۔ لیکن کیا بے وجہ کسی سفیر کا قتل وہ مسلم ہو یا نہ ہو دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے ؟… مزید پڑھیں »

کراچی میں پیش آنے والا خوفناک حادثہ

گزشتہ چند روز پہلے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹ فیکٹری بنام ” علی انٹرپرائز گارمنٹ فیکٹری “ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ، اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً تین سو سے زائد افراد شہید ہوگئے ۔ ان شہیدوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ اس فیکٹری میں کپڑا ، دھاگہ اور دیگر سامان خود ہی تیار کیا جاتا تھا ۔ تین منزلہ فیکٹری میں ایک ہی دروازہ تھا باہر جانے کے لیئے اور اسے مالکان کی جانب سے بند کردیا گیا تھا ، جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تنخواہ تقسیم کرنے کا دن تھا اور اس ڈر سے کہ تنخواہ چوری نہ ہوجائے ، دروازہ کو بند کردیا گیا تھا ۔ کچھ مزید سننے کو یہ ملا ہے کہ ایک جگہ اور بھی تھی فیکٹری سے باہر جانے کی لیکن وہاں پر آگ نے قبضہ کر رکھا تھا ۔ دوسرا غضب یہ تھا کہ فیکٹری کی کھڑکیوں کے آگے لوہے کی ” گرل “ لگائی گئی تھی ، اگر یہ ” گرل “ نہ ہوتی تو کئی لوگوں کی جان بچ سکتی تھی ۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شروع میں بھیجے جانے والے فائر فائیٹرز کی زیادہ تر… مزید پڑھیں »

عید الفطر 1433 ہجری مبارک ہو

السلام علیکم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیئے حقیقی خوشی کے دو دن مقرر کر رکھے ہیں اور وہ عیدین کے ایام ہیں یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ ۔عید الفطر رمضان کے بعد شوال کی یکم تاریخ کو منائی جاتی ہے ، جو کہ مسلمانوں کے لیئے اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے ۔ اس لیئے تمام عالم اسلام کو اور خصوصاً اردو بلاگران کو میری جانب سے عید الفطر بہت بہت مبارک ہو ۔ اس عید کے موقعہ پر ان لوگوں کو بھی ضرور یاد رکھیئے گا جو عید کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکتے ۔ وہ لوگ جو کسی سے مانگتے نہیں ہیں سوائے اللہ کے ۔ یہ لوگ ملتے تو مشکل سے ہیں لیکن ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کرنے کا ثواب بھی دگنا ہے ۔ ایک بار پھر تمام عالم اسلام کو عید مبارک ہو۔ جزاک اللہ۔

میں ہوں پاکستان

میرے وجود میں رہنے والو کیا تمہیں معلوم ہے میں کون ہوں ؟ میں پاکستان ہوں پاکستان۔میں 14 اگست 1947 کی رات کو بنا تھا۔دنیا کے نقشہ پر ابھرا تھا۔مسلمانوں کی خوشی کا باعث بنا تھا۔اس دن 27 رمضان کی مبارک شب تھی۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی جدوجہد کا خوبصورت تحفہ دیا تھا۔انہیں کامیابی دی تھی۔فتح دی تھی۔ جب میں بنا تھا تو نہ میرے پاس کوئی فوجی طاقت تھی نہ اپنے اندر رہنے والوں کو دینے کے لیئے کچھ تھا ، کیوں ؟ وہ اس لیئے کہ ہجرت کرکے آنے والے لوگ اس حالت میں نہیں تھے کہ وہ مجھ میں سے چھپے خزانوں کو باہر نکالتے۔ پھر آہستہ آہستہ مجھ میں رہنے والوں نے ہمت کی ، جوش پیدا کیا ، ولولہ کو جگایا ، ضمیر کو اٹھایا اور شروع کردیا مجھے سنوارنے کا کام اور میں سنورتا گیا۔لیکن پھر میرے قائد اور ہم سب کے قائداعظم کو میرے وجود میں رہنے والے ” کھوٹے سکوں “ نے ختم کرنے کی سازش شروع کردی۔اور انہیں ایک سازش کے تحت انتقال کرنے پر مجبور کردیا گیا۔پھر دوسرا دکھ مجھے اس وقت ہوا جب میرے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان  کو شہید کردیا گیا۔ پھر مجھ میں… مزید پڑھیں »

کیا آپ صحیح ہیں ؟

اس دن موسم بڑا ہی سہانا تھا۔میں اسی موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیئے اپنے گھر کے لان میں بیٹھا اخبار کا مطالعہ کررہا تھا۔کافی دیر اخبار کو پڑھتا رہا کہ شاید کوئی اچھی خبر بھی مل جائے لیکن بے سود ، اخبار میں ہرجگہ لڑائی جھگڑے ، سیاسی معاملات ، فلمی کہانیاں ، اشتہارات ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر بے شمار ایسی خبروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔اسی دوران میرا ایک دوست بڑی تیزی سے دوڑتا ہوا میری جانب بڑھ رہا تھا۔میں اخبار چھوڑ کر اس کی جانب گیا اور سلام دعا کے بعد پوچھا کہ :- ” کیا ہوا بھائی خیریت تو ہے ، اتنی جلدی میں کیوں ہو ؟ “ کہنے لگا کہ ” ہاں یار خیریت تو ہے بس میرے سے تمہاری برائی برداشت نہیں ہوئی ؟ “ ” برائی ، میں نے ہنس کر کہا یار میری برائی کون گا۔اور ویسے بھی کسی کے برا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے اگر ہماری نیت صاف ہو “۔۔۔۔۔ ” کہتے تو تم ٹھیک ہو پر ہم دونوں بچپن کے دوست ہیں اور میرے دوست کے خلاف کوئی ایسی غلیظ گالیاں دے تو مجھ سے نہیں برداشت ہوتا۔تھا بھی تمہارا پڑوسی اور تم اس پر جتنی… مزید پڑھیں »

کیا مزدور ڈے کا یہی مطلب ہے ؟

یکم مئی کو مزدور ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس دن دنیا بھر میں مزدوروں سے اتحاد  کے لیئے ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔جلوس نکالے جاتے ہیں۔تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ہر جگہ میڈیا سے لیکر عوام تک مزدور مزدور کے نعرے لگتے ہیں۔بڑے بڑے اعلانات کیئے جاتے ہیں ، ہم مزدوروں کو حق دلائیں گے ، ہم مزدوروں کو یہ دیں گے وہ دیں گے لیکن مقصد ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔جب حق دلانے کا وقت آتا ہے کہا جاتا ہے ” کون سا حق آپ لوگ اتنا لوٹ رہے ہیں ملک سے کبھی احساس کیا بلڈنگ مقانات بنانے کے ٹھیکے آپ کے پاس ، فیکٹریوں پر آپ کا قبضہ ، یہیہ بتائیں کہ آپ نے کہاں قبضہ نہیں کیا پھر بھی کہتے ہو کہ ہمیں ہمارا حق دو جاؤ ہماری جان چھوڑو “۔ میڈیا پر پروگرام نشر ہوتے ہیں ، اخباروں میں صفحات شائع ہوتے ہیں ، ریڈیو پر پروگرام کیئے جاتے ہیں۔لیکن کیا آپ نے سوچا کہ یہ پروگرام کیئے تو مزدوروں کے لیئے جاتے ہیں لیکن ان پروگرام میں امیر لوگوں سیاست دانوں ، دیگر فیکڑیوں کے مالکان کو طلب کیا جاتا ہے۔کیا یہ تمام افراد مزدور کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ان پروگرام میں مزدور کو… مزید پڑھیں »