بلاگ نامہ

زمرہ: قلم و ادب

آہ۔۔ ہمارے پیارے ابو جی

یہ 3 مئی 2016 کا دن تھا اور وقت ظہر کا تھا جب ہمارے پیارے ابو جی اس فانی دنیا سے کبھی نہ ختم ہونے والی دنیا میں تشریف فرماگئے۔ وہ وقت قیامت سا تھا جب ابو جی نے اپنی آخری سانسیں ہمارے ہاتھوں میں لیں۔ ابوجی اور میرا ساتھ اللہ رب العزت نے صرف 20 سال کا مختصر عرصہ ہی مقرر کیا تھا۔ ابو جی نے اپنی زندگی میں بیماری اور تکالیف کے باوجود تمام اولاد کو پڑھایا اور اچھی تربیت دی ابوجی کے ہر قدم میں امی جی نے بھرپور ساتھ دیا۔ یہ تقریبا 1995 کے قریب کی بات ہے جب ابو جی کو شوگر کی بیماری لاحق ہوگئی۔ ابو نے اسی بیماری کے ساتھ اپنی باقی کی زندگی گزاری۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ابو جی نے انسولین کو باقاعدگی سے لگایا جس کی وجہ سے ان کے جسم کو کوئی حصہ ایسا نہیں بچ پایا تھا جہاں اگر سوئی اوپر بھی رکھ دو تو درد سے ہائے نہ نکلے۔ لیکن اس سب کے باوجود ابوجی نے کبھی بھی اپنا کوئی کام کسی دوسرے کے ذمہ نہیں لگایا وہ اپنے کام خود کرتے تھے لیکن رب کو کچھ اور منظور تھا کہ ابو جی کو اس… مزید پڑھیں »

سال 2012 کے اہم ملکی واقعات کا احاطہ

سال 2012 بھی اپنے اندر بے شمار غم ، خوشیاں سمیٹے ختم ہوکر 2013 کو سامنے لے آیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ہر آنے والا نیا سال پچھلے سال سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے ، اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو۔ سال 2012 پاکستان کے لیئے بہت مشکل اور کٹھن ثابت ہوا۔کہیں کسی کے گھر دکھ بن کر گزرا تو کہیں کسی کے گھر خوشی بن کر۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر ” روشنیوں کے شہر “ کراچی کے لیئے تو سال 2012 بہت ہی خطرناک ثابت ہوا ، جس میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ پیش آنے والا ایک خطرناک حادثہ گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ بھی شامل ہے۔اس تحریر میں 2012 کے دوران پیش آنے والے چند واقعات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات پولیو ٹیموں پر حملے ، ملالہ پر حملہ جس کی مذمت دنیا بھر میں کی گئی ، رینجرز کے کراچی میں واقع ہیڈ کواٹر پر حملہ ، گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ ، پشاور ایئر پورٹ پر حملے ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ، کامرہ ایئر بیس پر حملہ ، 21 ستمبر 2012 بروز جمعہ کو منائے جانے والے یوم عشق رسولﷺ کے… مزید پڑھیں »

میں ہوں پاکستان

میرے وجود میں رہنے والو کیا تمہیں معلوم ہے میں کون ہوں ؟ میں پاکستان ہوں پاکستان۔میں 14 اگست 1947 کی رات کو بنا تھا۔دنیا کے نقشہ پر ابھرا تھا۔مسلمانوں کی خوشی کا باعث بنا تھا۔اس دن 27 رمضان کی مبارک شب تھی۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی جدوجہد کا خوبصورت تحفہ دیا تھا۔انہیں کامیابی دی تھی۔فتح دی تھی۔ جب میں بنا تھا تو نہ میرے پاس کوئی فوجی طاقت تھی نہ اپنے اندر رہنے والوں کو دینے کے لیئے کچھ تھا ، کیوں ؟ وہ اس لیئے کہ ہجرت کرکے آنے والے لوگ اس حالت میں نہیں تھے کہ وہ مجھ میں سے چھپے خزانوں کو باہر نکالتے۔ پھر آہستہ آہستہ مجھ میں رہنے والوں نے ہمت کی ، جوش پیدا کیا ، ولولہ کو جگایا ، ضمیر کو اٹھایا اور شروع کردیا مجھے سنوارنے کا کام اور میں سنورتا گیا۔لیکن پھر میرے قائد اور ہم سب کے قائداعظم کو میرے وجود میں رہنے والے ” کھوٹے سکوں “ نے ختم کرنے کی سازش شروع کردی۔اور انہیں ایک سازش کے تحت انتقال کرنے پر مجبور کردیا گیا۔پھر دوسرا دکھ مجھے اس وقت ہوا جب میرے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان  کو شہید کردیا گیا۔ پھر مجھ میں… مزید پڑھیں »

آخری سفر

میری روح نکلنے والی ہوگی میری سانس بکھرنے والی ہوگی پھر دامن زندگی کا چھوٹے گا دھاگہ سانس کا بھی ٹوٹے گا پھر واپس ہم نا آئینگے پھر ہم سے کوئی نا روٹھے گا پھر آنکھوں میں نور نا ہوگا پھر دل غم سے چور نا ہوگا اس پل تم ہم کو تھامو گے ہم سے دوست اپنا مانگو گے پھر ہم نا کچھ بھی بولیں گے آنکھیں بھی نا کھولیں گے اس پل تم رو دو گے ہم کو تم کھو دو گے ( از احمد فراز )

کیا آپ صحیح ہیں ؟

اس دن موسم بڑا ہی سہانا تھا۔میں اسی موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیئے اپنے گھر کے لان میں بیٹھا اخبار کا مطالعہ کررہا تھا۔کافی دیر اخبار کو پڑھتا رہا کہ شاید کوئی اچھی خبر بھی مل جائے لیکن بے سود ، اخبار میں ہرجگہ لڑائی جھگڑے ، سیاسی معاملات ، فلمی کہانیاں ، اشتہارات ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر بے شمار ایسی خبروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔اسی دوران میرا ایک دوست بڑی تیزی سے دوڑتا ہوا میری جانب بڑھ رہا تھا۔میں اخبار چھوڑ کر اس کی جانب گیا اور سلام دعا کے بعد پوچھا کہ :- ” کیا ہوا بھائی خیریت تو ہے ، اتنی جلدی میں کیوں ہو ؟ “ کہنے لگا کہ ” ہاں یار خیریت تو ہے بس میرے سے تمہاری برائی برداشت نہیں ہوئی ؟ “ ” برائی ، میں نے ہنس کر کہا یار میری برائی کون گا۔اور ویسے بھی کسی کے برا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے اگر ہماری نیت صاف ہو “۔۔۔۔۔ ” کہتے تو تم ٹھیک ہو پر ہم دونوں بچپن کے دوست ہیں اور میرے دوست کے خلاف کوئی ایسی غلیظ گالیاں دے تو مجھ سے نہیں برداشت ہوتا۔تھا بھی تمہارا پڑوسی اور تم اس پر جتنی… مزید پڑھیں »

کیا مزدور ڈے کا یہی مطلب ہے ؟

یکم مئی کو مزدور ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس دن دنیا بھر میں مزدوروں سے اتحاد  کے لیئے ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔جلوس نکالے جاتے ہیں۔تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ہر جگہ میڈیا سے لیکر عوام تک مزدور مزدور کے نعرے لگتے ہیں۔بڑے بڑے اعلانات کیئے جاتے ہیں ، ہم مزدوروں کو حق دلائیں گے ، ہم مزدوروں کو یہ دیں گے وہ دیں گے لیکن مقصد ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔جب حق دلانے کا وقت آتا ہے کہا جاتا ہے ” کون سا حق آپ لوگ اتنا لوٹ رہے ہیں ملک سے کبھی احساس کیا بلڈنگ مقانات بنانے کے ٹھیکے آپ کے پاس ، فیکٹریوں پر آپ کا قبضہ ، یہیہ بتائیں کہ آپ نے کہاں قبضہ نہیں کیا پھر بھی کہتے ہو کہ ہمیں ہمارا حق دو جاؤ ہماری جان چھوڑو “۔ میڈیا پر پروگرام نشر ہوتے ہیں ، اخباروں میں صفحات شائع ہوتے ہیں ، ریڈیو پر پروگرام کیئے جاتے ہیں۔لیکن کیا آپ نے سوچا کہ یہ پروگرام کیئے تو مزدوروں کے لیئے جاتے ہیں لیکن ان پروگرام میں امیر لوگوں سیاست دانوں ، دیگر فیکڑیوں کے مالکان کو طلب کیا جاتا ہے۔کیا یہ تمام افراد مزدور کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ان پروگرام میں مزدور کو… مزید پڑھیں »

میری ذات ذرہ بے نشان

اس شاعری پر نظم کی شاعرہ واقعی داد کی مستحق ہیں ، انہوں نے جس طرح سے ناول لکھا پھر اس کے مطابق شاعری بھی لکھی تو یہ واقعی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ان کے ناول پر پھر ڈرامہ بنایا گیا جوکہ پورے پاکستان اور پاکستان کے باہر بھی بہت مشہور ہوا اور ایوارڈ بھی حاصل کیئے۔ ناول و نظم کا نام :- میری ذات ذرہ بے نشاں شاعرہ و ناول نگار :- عمیرہ احمد آواز :- راحت فتح علی خان ناول پر ڈرامہ بنانے والی پروڈکشن کا نام :- 7th Sky چینل کا نام :- جیو ٹی وی ” میری ذات ذرہ بے نشان “ میں وہ کس طرح سے کروں بیان جو کے گئے ہیں ستم یہاں سنے کون میری یہ داستان کوئی ہم نشین ہے نہ راز دان جو تھا جھوٹ وہ بنا سچ یہاں نہیں کھولی مگر میں نے زبان یہ اکیلا پن یہ اداسیاں میری زندگی کی ہیں ترجمان میری ذات ذرّہ بے نشان کبھی سونی صبح میں ڈھونڈنا کبھی اجڑی شام کو دیکھنا کبھی بھیگی پلکوں سے جاگنا کبھی بیتے لمحوں کو سوچنا مگر ایک پل ہے امید کا ہے مجھے خدا کا جو آسرا نہیں میں نے کوئی گلا کیا نہ ہی میں… مزید پڑھیں »

مرزا غالب

مرزا غالب شاعری کے ایک معروف شاعر سمجھے جاتے ہیں۔مرزا غالب کا اصل نام اسد اللہ خان تھا، مرزا غالب ہندوستان کے شہر آگرہ میں دسمبر 1797 میں پیدا ہوئے۔ان کے والد محترم کا نام عبد اللہ تھا۔مرزا غالب اپنے بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے۔اس کے بعد ان کی پرورش مرزا نصراللہ نے کی جو کہ ان کے چچا بھی تھے لیکن جب مرزا صاحب آٹھ سال کی عمر میں پہنچے تو ان کے چچا بھی اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔اس کے بعد احمد خان نے ان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کر وایا۔ مرزا غالب کی شادی 13 سال کی عمر میں احمد خان کے بھائی  کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی۔شادی ہونے کے بعد مرزا غالب نے اپنے آبائی شہر کو چھوڑ کر دہلی میں رہائش اختیار کی۔مرزا غالب  اچانک مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔آخر کار انہوں نے قرضوں کے بوجھ اور مالی مشکلات سے تنگ آکر قلعہ کی ملازمت اختیار کی۔مرزا غالب کو بہادر شاہ ظفر نے سن 1850 میں انہیں نجم الدولہ کا خطاب دیا۔ مرزا غالب شراب بہت پیتے تھے جس کی بنا پر ان کی صحت آہستہ آہستہ خراب ہوتی گئی اور وہ فروری کی 15 تاریخ سن 1869 کو اس… مزید پڑھیں »

بکرا عید

عمران اپنے ابو سےبات کرتے ہوئے۔ابو ابو ہم گائے کب لائے گیں۔ بیٹا ابھی تو پورا ہفتہ پڑا ہوا ہے لے آئیں گے بیٹا۔ابو نے جواب دیا۔ عمران :- ابو نہیں ایک ہفتہ میں ساتھ دن ہوتے ہیں،میرے سارے دوست گائے اور بکرے لے آئے ہیں۔آپ ابھی چلیں بکرا منڈی میرے ساتھ۔ ابو :- بیٹا ابھی کیسے جاسکتے ہیں ابھی تو ہمارے پاس پ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”ابوکچھ کہتے کہتے رک گئے“ عمران :- ابھی کیوں نہیں جاسکتے ابو ویسے بھی ابھی شام ہو رہی ہے،اور ابھی تو گائے سستی ملے گی ابو پلیز چلیں نہ ابو۔ ابو :- بیٹا سمجھا کرو ابھی ہم نہیں جا سکتے،دیکھو بیٹا وہ آپ کی مرغی کیسے کھانا کھا رہی ہے۔”ابو نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی“ عمران :- نہیں ابو ابھی مرغی نہیں آپ گائے کا بتائیں نہ مجھےکب لائیں گے۔ ابو نے جب دیکھا کہ ایسے کام نہیں چلے گا تو انہوں نے کہ دیا۔۔۔۔۔ ابو :- اچھا بیٹا ہم جمعے والے دن گائے لائیں گے،ویسے بھی پیر کو عید ہے،ٹھیک ہے بیٹا۔ عمران :- جی ابو۔  ☆☆☆☆☆☆☆ عمران کی عمر 3 سال تھی تو عمران کی امی کا انتقال ہو گیا تھا۔اس کے بعد عمران کے لیئے اس کےابو ہی ماں اور باپ… مزید پڑھیں »