بلاگ نامہ

بکرا عید

عمران اپنے ابو سےبات کرتے ہوئے۔ابو ابو

ہم گائے کب لائے گیں۔

بیٹا ابھی تو پورا ہفتہ پڑا ہوا ہے لے آئیں گے بیٹا۔ابو نے جواب دیا۔

عمران :- ابو نہیں ایک ہفتہ میں ساتھ دن ہوتے ہیں،میرے سارے دوست گائے اور بکرے لے آئے ہیں۔آپ ابھی چلیں بکرا منڈی میرے ساتھ۔

ابو :- بیٹا ابھی کیسے جاسکتے ہیں ابھی تو ہمارے پاس پ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”ابوکچھ کہتے کہتے رک گئے“

عمران :- ابھی کیوں نہیں جاسکتے ابو ویسے بھی ابھی شام ہو رہی ہے،اور ابھی تو گائے سستی ملے گی ابو پلیز چلیں نہ ابو۔

ابو :- بیٹا سمجھا کرو ابھی ہم نہیں جا سکتے،دیکھو بیٹا وہ آپ کی مرغی کیسے کھانا کھا رہی ہے۔”ابو نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی“

عمران :- نہیں ابو ابھی مرغی نہیں آپ گائے کا بتائیں نہ مجھےکب لائیں گے۔

ابو نے جب دیکھا کہ ایسے کام نہیں چلے گا تو انہوں نے کہ دیا۔۔۔۔۔

ابو :- اچھا بیٹا ہم جمعے والے دن گائے لائیں گے،ویسے بھی پیر کو عید ہے،ٹھیک ہے بیٹا۔

عمران :- جی ابو۔

 ☆☆☆☆☆☆☆

عمران کی عمر 3 سال تھی تو عمران کی امی کا انتقال ہو گیا تھا۔اس کے بعد عمران کے لیئے اس کےابو ہی ماں اور باپ دونوں تھے۔عمران کے ابونے اپنی بیوی کی وفات کے بعد عمران کی پر ورش ماں اور باپ بن کر کی۔عمران کی عمر اب 10 سال ہو چکی ہے۔عمران کے ابو فیکٹری میں ورکر ہیں۔دو افراد ہو نے کے باوجود عمران کے ابو بڑی مشکل سے گھر کا خرچہ چلاتےہیں۔عمران کے ابو کو اس فیکٹری میں کام کر تے ہوئے 7 سال ہو گئے ہیں اور 17ہزار روپے ماہا نہ تنخواہ ہے۔جس میں 5 ہزار مکان کا کرایہ،3 ہزار بجلی کا بل،100 روپے گیس کا بل اور 1000 روپے عمران کے اسکول کی فیس ہے۔اس طرح عمران کے ابو کی تنخواہ صرف 9 ہزار روپے بنتی ہے۔جس میں گھر کا خرچہ ہی چلتا ہے۔

☆☆☆☆☆☆☆

عمران صبح خوشی خوشی اسکول گیا کے ہم اس بار گائے لائیں گے۔

اسکول میں بھی عمران کا دل گائے ہی کی طرف رہا۔اس کے بعد جمعہ تک کا انتظار عمران کو سالوں تک لگا۔

بدہ کے دن عمران کے ابو نے اپنی تنخواہ سے بچاکے کچھ پیسے جمعہ کیئے تھے جوانھوں نے اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے تھے۔عمران کے ابو نے صبح جاتے ہو ئے عمران کوبتایا کہ بیٹا آج میں پیسے لے آؤں گا اور کل یا پرسوں میں آپ کو اپنے ساتھ بکرا منڈی لے جائوں گا۔اس کے بعد عمران بڑا خوش رہنے لگا۔

فیکٹری سے چھٹی کے بعد عمران کے ابو اپنی بائک پر بینک کی طرف نکلے،راستے میں وہ اللہ کا شکر ادا کرنے لگے کہ میں اس بار اپنے بیٹے کی خواہش اور اپنا فرض ادا کروں گا۔

عمران کے ابو بینک سے پیسے لے کر نکلے ہی تھے کہ اچانک گولیاں چلنے کی آواز آئی اور ایک گولی عمران کے ابو کو تیز رفتا ری میں چھو کر چلی گئی۔

عمران کے ابو نے آج جلدی چھٹی لی تھی اور بینک سے پیسے نکالنے کے لیئےگئے تھے۔لیکن اب شام کی 7 بج چکے تھے اور عمران کے ابو ابھی تک گھر نہیں پہنچے تھے۔اور عمران گھر پر اکیلا تھا۔عمران ابھی تک اپنے ابو کا ہی انتظار کر رہا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور عمران نے دروازہ کھولا تو سامنے عمران کے تایا کھڑے تھے۔عمران نے انہیں بتایا کہ ابو ابھی تک گھر نہیں پہنچے،تو عمران کہ تایا کو پریشانی ہوئی۔اس کے بعد عمران کے تا یا نے عمران کے ابو کے موبائل پر فون کیا تو فون پر انہیں عمران کے ابو کے انتقال کی خبر سنائی گئی،تو عمران کے ساتھ ساتھ عمران کے تایا کو بھی جھٹکا لگا اور وہ دونوں رونے لگے۔

☆☆☆☆☆☆☆

عمران کے ابو کی لاش ان کے گھر کے سہن میں رکھی تھی عمران زور زور سے رو رہا تھا اب کوئی عمران کے آنسو کو صاف کرنے والا بھی نہیں رہا تھا۔عمران کے ابو فوت ہو کر بھی ایسے مسکراکر اپنے ملک کے لوگوں سے پوچھ رہے تھے کہ میرا کیا جرم تھا جس کی مجھے سزا دی گئے،میں تو صرف اپنے بیٹے کی خواہش اور قربانی کا فریضہ ادا کرنے کے لیئے بینک گیا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆

عمران کے تایا عمران کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور پھر جمعے کے دن عمران خوب جی بھر کے رویا،عمران کے ساتھ اس کے تایا بھی خوب روئے۔

☆☆☆☆☆☆☆

عمران کے تایا نے عمران کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے اسے بھی اپنے ساتھ منڈی لے جا نے کا وعدہ کیا۔اور پھر ہفتے کے دن عمران اپنے تایا کے ساتھ منڈی گیا،اس کے تایا نے کہا بیٹا جو جانور پسند ہو اس پر ہاتھ رکھو ہم اسی کو خریدیں گے۔عمران نے ایک گائے کو پسند کیا اور اس کے تایا نے اسے خرید لیا۔اس کے بعد تایا عمران کے ساتھ شفقت سے پیش آتے اور عمران کا خیال رکھتے۔

☆☆☆☆☆☆☆

آج عید کا دن تھا اور عمران افسردہ ہونے کے ساتھ خوش بھی تھا کہ ہم بھی اس بار قربانی کریں گے۔عمران کے تایا کی کوئی اولاد تھی نہیں اس لیئے عمران کے تایا نے عمران کو اپنا بیٹا بنا لیا۔اور عمران کے ابو کا اچھی تعلیم دلانے کا خواب بھی پورا کیا۔عمران کو اس اسکول سے اٹھا کر اچھے اسکول میں داخلہ دلایا۔اور عمران نے بھی خوب دل لگا کر محنت شروع کردی اور اس کے بعد عمران اپنے تایا کے گھر ان کا بیٹا بن کر پنسی خوشی رہنے لگا۔

1 تبصرہ برائے “بکرا عید”

  1. اس پر تبصرہ کیا کریں
    یہ تو کراچی میں نا گہانی اموات کی وجہ سے کئی کہانیوں میں سے ایک ہے
    اور شائد اس کا انجام بھی بہتر رہا ہے

تبصرہ کریں