بلاگ نامہ

بچپن سے جوانی تک کے روزے

جیسا کہ اردو بلاگستان میں ایک پرانی روایت کسی ایک موضوع پر مشترکہ انداز میں لکھنا یعنی موضوع پر لکھنے کے بعد دوسروں ramadhan-wordingکو دعوت دینا ٹیگ کرکے کہ وہ بھی اس موضوع پر لکھیں کا آغاز اس رمضان المبارک بہت ہی شاندار انداز میں ہوچکا ہے اور اب تک بہت سارے بلاگرز اس پر لکھ بھی چکے ہیں۔ اسی سلسلہ میں میں نے سوچ ہی لیا آخر کہ رمضان ختم ہونے سے پہلے ایک عدد تحریر لکھ دینی چاہیئے تاکہ بلاگر کا درجہ برقرار رہے 🙂 ۔

میرا بچپن نہ تو زیادہ پرانا ہے اور نہ ہی زیادہ نیا یہ کوئی تقریبا 10 سے 11 سال پہلے کی بات ہے کہ جب میں نے باقاعدہ پہلا روزہ رکھا تھا۔ گوکہ اس بارے میں مجھے بہت زیادہ یاد نہیں مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ وہ روزہ بہت تکلیف میں رکھا تھا جس کی بنیادی وجہ اس وقت مشرف دور میں ہونے والی شدید قسم کی لوڈشیڈنگ تھی۔ اس سے پہلے چڑی روزے 4 یا 5 پانچ سال کی عمر سے رکھنے شروع کردیئے تھے۔ اسی چڑی روزوں نے مجھے ایک بہت اچھی عادت دی تھی کہ میں روزے داروں کے سامنے نہ کچھ کھاتا تھا نہ پیتا تھا اسی عادت نے اب ایک نئی عادت کا اضافہ کیا ہے کہ مجھے روزے کی حالت میں چاہے سامنے کوئی بھی روزہ خور کچھ کھا پی رہا ہو تو کچھ فرق نہیں پڑتا جیسا کہ آج کے دور میں صرف خوشبو سن کر ہی لوگوں کا روزہ خراب ہونے لگتا ہے 😀 ۔

ہمارے گھر کا ماحول تو دینی تھا اور ہے لیکن کبھی روزہ کشائی نہیں ہوئی کسی کی جس کی وجہ سے وہ روزہ عام سا ہی تھا۔ لیکن اتنا ضرور تھا کہ اس دن میری پسندیدہ بریانی دسترخوان پر موجود تھی۔ میری اس وقت سے عادت تھی کہ دو بار افطار ہوتی تھی ایک دفعہ نماز سے پہلے دوسری دفعہ نماز کے بعد اور پھر تراویح کے بعد بھی کچھ نہ کچھ کھا لیا کرتا تھا جس کی وجہ سے رمضان کے اختتام پر وزن دگنا ہوجاتا تھا۔ لیکن اب الحمداللہ اس بری عادت پر کافی حد تک قابو پالیا ہے اور اب زیادہ تر ایک بار ہی افطار کرتا ہوں اور کبھی زیادہ طلب ہو تو نماز کے بعد اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اب روزے کا صحیح مطلب سمجھ آچکا ہے۔

اس وقت کراچی میں روزہ کیسا ہوتا تھا ؟ تو اس سوال کا جواب کچھ اس طرح ہے کہ اس وقت نہ اسمارٹ فون تھے نہ موبائل پورے گھر میں ایک پی ٹی سی ایل اور ایک عدد نوکیا کا موبائل فون ہوتا تھا اس کے علاوہ سحری میں جاگنے کے لیئے گھڑی میں الارم لگا دیا جاتا تھا یا پھر سحری کے وقت ڈھول والے ڈھول بجاتے گلی سے گزرتے تھے تو آنکھ کھل جاتی تھی۔ اب تو نہ وہ ڈھول رہے اور نہ ہی وہ الارم والی گھڑیاں۔ انٹرنیٹ ضرور تھا لیکن وہ بھی ایسا کہ 5 منٹ بعد ویب سائٹ کھلتی تھی۔ یعنی جیسے آج کل کے ماڈرن دور میں ہے کہ آدھا دن تو انٹرنیٹ پر ہی گزر جاتا ہے تو ایسا کچھ نہ تھا۔ میں سحری کے بعد قرآن پڑھ لیتا تھا جو مدرسہ کا سبق ہوتا تھا اور اس کے بعد کچھ دیر سو جایا کرتا تھا۔ اس وقت اردو قرآن کی وجہ سے پڑھنی آتی تھی تو اخبارات میں تصاویر دیکھ لیا کرتا تھا اور بچوں کے صفحات پڑھ لیا کرتا تھا۔

وہ دن بہت شاندار ہوتے تھے جب چاند دیکھنے کے لیئے سب ایک بڑے سے فٹبال گراؤنڈ کا رخ کرتے تھے اور چاند نظر آجانے کے بعد ایک عجیب سے خوشی ہوتی تھی نہ جانے وہ خوشی آج کہاں گئی 🙁 جب چھوٹے تھے تو خواہش تھی کہ جلدی سے بڑے ہوجائیں اللہ نے یہ خواہش بھی جلدی ہی پوری کردی بچپن میں ہی بڑوں جیسی باتیں سکھا دیں پھر اب جب مکمل جوان ہوچکے تو یاد آتا ہے کہ کاش واپس وہی دن آجائے کیوں کہ میرا بچپن بہت مختصر تھا یا شاید بچپن چھن گیا تھا۔

تراویح گھر میں ہی پڑھائی جاتی تھیں تو جتنی پڑھ سکتا تھا پڑھ لیتا تھا۔ مجھے یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ جس رمضان پہلا روزہ رکھا تھا اس رمضان عید سے پہلے تک 3 روزے رکھ لیئے تھے اور خاندان میں فخر سے بتاتا تھا کہ میں نے تین روزے رکھے ہیں 😀 ۔

ایک بات جو حقیقت ہے وہ یہ کہ بچپن سے لیکر  آج تک کچھ بھی نہیں بدلا سوائے وقت کے۔ جیسے اس وقت شروع کے روزوں میں نمازی زیادہ ہوتے تھے مسجد میں ویسے ہی اسی مسجد میں اب بھی شروع میں زیادہ آخر میں کم ہوتے ہوتے رمضان کے علاوہ بھی جو نماز پڑھتے وہ ہی رہ جاتے۔

پھر جب رمضان کے بعد عید آتی تھی تو اس وقت اپنا ہی مزہ ہوتا تھا صبح صبح نماز کے بعد نئے نوٹوں کی عیدی ملتی تھی جو آدھی کھانے پینے اور آدھی جھولے جھولنے اور نقلی بندوق لینے میں خرچ ہوجاتی تھی۔ لوگ صحیح کہتے ہیں عید صرف بچوں کی ہی ہوتی ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید وقت بدل گیا ہے اب عید پر ویسی خوشی نہیں ہوتی جیسی پہلے ہوا کرتی تھی مگر پھر جب بازار میں بچوں کو ویسے ہی ہنستا عید کو مناتے دیکھتا ہوں تو اپنا خیال غلط لگتا ہے کہ وقت نہیں بدلا ہم بڑے ہوگئے ہیں کیوں کہ عید تو صرف بچوں ہی کی ہوتی ہے۔

اس موضوع پر دیگر اردو بلاگران کی تحاریر پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔

7 تبصرے برائے “بچپن سے جوانی تک کے روزے”

  1. “وقت نہیں بدلا ہم بڑے ہوگئے ہیں” آپ نے تو ایک بڑی بات نہایت سادگی سے بیان کردی – جیتے رہیں ا یک عمدہ تحریر جس میں دلچسپی آخری سطرتک پڑھتے ہوئی براقرا رہی
    اورایک سے زائد بارپڑھنے کا جی چاہا-

  2. واقعی وقت تو کبھی بھی نہیں بدلتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدلتے ہیں تو میں اور آپ ہی
    میں نے پہلے بھی کسی بلاگ پر یہی بات لکھی جو آپ نے کہی کہ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو جی چاہتا ہےکہ جلدی سے بڑے ہو جائیں اور جب بڑے ہو جاتے ہیں تو بچپن کے دن سہانے لگتے ہیں
    ماضی کی خوبصورت یادیں شئر کرنے کا شکریہ

    1. سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ اس سلسلہ میں آپ نے بہت اہم کردار ادا کیا 🙂

  3. بہت عمدہ لکھا بھائی آپ نے ساری باتیں حقیقت پر مبنی لکھی ہیں ۔اب بچپن جیسا رمضان اور عید کا مزہ نہیں رہا ۔اور نمازیوں کی تعداد کم ہونے والی بھی ٹھیک کہی اب کے میرا آخری رمضان انڈیا میں گزرا تو میں نے بھی رمضان میں بیدار کرنے والوفقیروں کو بہت یاد کیا ۔۔انڈیا جانے کی وجہہ سے آپ کا یہ مضمون دیر سے پڑھی سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کریں