بلاگ نامہ

کیا آپ صحیح ہیں ؟

اس دن موسم بڑا ہی سہانا تھا۔میں اسی موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیئے اپنے گھر کے لان میں بیٹھا اخبار کا مطالعہ کررہا تھا۔کافی دیر اخبار کو پڑھتا رہا کہ شاید کوئی اچھی خبر بھی مل جائے لیکن بے سود ، اخبار میں ہرجگہ لڑائی جھگڑے ، سیاسی معاملات ، فلمی کہانیاں ، اشتہارات ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر بے شمار ایسی خبروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔اسی دوران میرا ایک دوست بڑی تیزی سے دوڑتا ہوا میری جانب بڑھ رہا تھا۔میں اخبار چھوڑ کر اس کی جانب گیا اور سلام دعا کے بعد پوچھا کہ :-

” کیا ہوا بھائی خیریت تو ہے ، اتنی جلدی میں کیوں ہو ؟ “

کہنے لگا کہ ” ہاں یار خیریت تو ہے بس میرے سے تمہاری برائی برداشت نہیں ہوئی ؟ “

” برائی ، میں نے ہنس کر کہا یار میری برائی کون گا۔اور ویسے بھی کسی کے برا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے اگر ہماری نیت صاف ہو “۔۔۔۔۔

” کہتے تو تم ٹھیک ہو پر ہم دونوں بچپن کے دوست ہیں اور میرے دوست کے خلاف کوئی ایسی غلیظ گالیاں دے تو مجھ سے نہیں برداشت ہوتا۔تھا بھی تمہارا پڑوسی اور تم اس پر جتنی مہربانی کرتے ہو وہ اتنا ہی تمہارے سر پر چڑھ رہا ہے جس کی تمہیں کوئی خبر نہیں ہے۔خیر اس نے تمہیں جو کہا وہ میں بتا تا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض میرے دوست نے مکمل کہانی سنا ڈالی۔مجھے اپنے دوست کی یہی عادت اچھی نہیں لگتی تھی کہ وہ دوسروں کی برائیاں ان کو جا کر بتادیتا تھا۔ “

میں کافی دنوں سے چاہ رہا تھا کہ اپنے دوست کی اس عادت کو کسی طرح ختم کروں۔آج میرے پاس موقعہ تھا۔میں اسے اندر اپنی لائبریری میں لے آیا اور پھر اسے سمجھانے لگا ، لیکن وہ سر ہلائے جارہا تھا ، میں سمجھ گیا کہ میری بات کا اثر نہیں ہورہا ہے۔میں نے پھر اسے ایک واقعہ سنایا اس مقصد سے کہ شاید کے اب میری بات اسے سمجھ آجائے۔

واقعہ کچھ اس طرح تھا :-

” ایک شخص کسی بزرگ کی شان میں گستاخانہ کلامات کہہ رہاتھا تو قریب کھڑے ایک شخص نے سنا اور بزرگ کے پاس پہنچ گیا اور ان سے کہنے لگا کہ حضور باہر ایک شخص آپ کے خلاف گستاخانہ کلامات کہہ رہا ہے۔بزرگ نے بہت ہی خوبصورت جواب دیا کہ اس نے تو اندھیرے میں تیر چلایا تھا اور تونے وہ تیر اندھیرے سے نکال کر مجھے مار دیا ۔ “

جب میں نے مختصر اس واقعہ کو اسے سنایا تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں سے آنسوں جاری ہیں۔حالانکہ واقعہ چھوٹا سا تھا لیکن اس پر اثر کرگیا۔پھر وہ اٹھا اور مجھے اپنے گلے لگا کر کہنے لگا کہ دوست مجھے معاف کردینا آج تم نے میری آنکھیں کھول دیں ہیں۔وہ روتا ہوا اللہ حافظ   کر کے چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد مجھے عجیب سی خوشی نصیب ہوئی۔جو اس بات کی ضمانت تھی کہ میری بات واقعی اثر کر چکی ہے۔

اس دن کے بعد میں نے کبھی اپنے دوست کو کسی کی برائی کسی کو بتاتے ہوئے نہیں دیکھا۔اور ہماری دوستی مزید مضبوط ہوچکی تھی۔

11 تبصرے برائے “کیا آپ صحیح ہیں ؟”

  1. ام عروبہ says:

    السلام علیکم

    ماشاءاللہ بہت اخلاقی اور با مقصد پوسٹ ہے- آُپ نے تو اپنے دوست کے ساتھ سہی معنوں میں دوستی کا حق ادا کر دیا-

    اللہ آپ کو اور ہم سب کو یونہی صحیح اور غلط کے درمیان فرق کر کے صحیح بات پر عمل کی توفیق دے آمین-

    1. وعلیکم السلام
      سب سے پہلے تو میں آپ کو اپنے بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں۔اس کے بعد آمین اور شکریہ ۔

  2. اور خود اس بیچارے کی برائی کر دی تم نے

    1. پھر تحریر ( کہانی ) کس طرح لکھی جائے جب اس میں کردار کی اچھائی یا برائی کا ذکر نہ ہو ۔

      1. جیسا فلموں میں ہوتا ہے یعنی نام اور مقام تبدیل کرکے

        1. ویسے آج کل فلموں میں کچھ اور ہی ہوتا ہے 😀

  3. زبردست تحریر ہے۔ خاص طور پر بزرگ والا واقعہ۔
    ویسے آج کل کوئی آپ کی برائی کرے اور کوئی دوسرا آ کر آپ کو بتائے تو بتانے والا آپ کو اپنا اپنا لگتا ہے، اور پھر یوں الٹا بتانے والے کی اصلاح کرنا اور خود بھی برداشت کرنا واقعی بہت بڑی بات ہے۔

    1. مُنڈا ظاہرکرنے کی کوشش میں ہے کہ کالج جانے کے قابل ہوگیا ہے :ڈ

      1. پہنچنے والی عمر بس قریب ہی ہے۔بیچ میں تقریباً ایک سال کا وقفہ ہے۔اسی لیئے تھوڑا قلم میں جوش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

  4. چغل خوری اور غیبت یہ دونوں بہت گھٹیہ عادتیں ہیں اور ہمارے معاشرے میں بہت عام ہیں دونوں میں عجیب طرح کی لذت ہے اور ان کی لت پڑ جاتی ہے۔ چغل خور انسان دوسروں کی ہمدری حاصل کرنے اور اپنی کارکردگی کی داد وصول کرنے کے لیے چغلی کھاتا ہے جبکہ غیبت کرنے والا جب دوسروں کی برائی بیان کرتا ہے تو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر محسوس کرتا ہے دوسرا حسد کی آک بھی غیبت سے کجھ کم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات مشترک غیر پسندیدہ شحض کی غیبت لوگوں کو قریب لے آتی ہے۔
    چلیں ایک شخص کا تو علاج ہوا۔ اللہ آپ کو اور توفیق دے!

  5. dua says:

    اللہ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق دی آمین

تبصرہ کریں