بلاگ نامہ

کراچی میں پیش آنے والا خوفناک حادثہ

گزشتہ چند روز پہلے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹ فیکٹری بنام ” علی انٹرپرائز گارمنٹ فیکٹری “ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ، اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً تین سو سے زائد افراد شہید ہوگئے ۔ ان شہیدوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ اس فیکٹری میں کپڑا ، دھاگہ اور دیگر سامان خود ہی تیار کیا جاتا تھا ۔

تین منزلہ فیکٹری میں ایک ہی دروازہ تھا باہر جانے کے لیئے اور اسے مالکان کی جانب سے بند کردیا گیا تھا ، جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تنخواہ تقسیم کرنے کا دن تھا اور اس ڈر سے کہ تنخواہ چوری نہ ہوجائے ، دروازہ کو بند کردیا گیا تھا ۔ کچھ مزید سننے کو یہ ملا ہے کہ ایک جگہ اور بھی تھی فیکٹری سے باہر جانے کی لیکن وہاں پر آگ نے قبضہ کر رکھا تھا ۔ دوسرا غضب یہ تھا کہ فیکٹری کی کھڑکیوں کے آگے لوہے کی ” گرل “ لگائی گئی تھی ، اگر یہ ” گرل “ نہ ہوتی تو کئی لوگوں کی جان بچ سکتی تھی ۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شروع میں بھیجے جانے والے فائر فائیٹرز کی زیادہ تر تعداد ” اناڑی “ نکلی ، اگر وہ وقت پر صحیح اقدامات کرتے تو پھر بھی کئی مزید افراد کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔ خیر اس طرح کچھ نہ کچھ کرتے کرتے تقریباً 48 گھنٹے بعد آگ پر قابو پالیا گیا ۔ لیکن چند گھنٹے بعد آگ پھر بھڑک اٹھی اور اس پر بھی قابو پالیا گیا ۔ کچھ خبریں یہ بھی موصول ہوئیں کہ بیسمنٹ میں فائر بریگیڈ کے پانی میں بھی کئی افراد ڈوب کر شہید ہوئے ۔ بیسمنٹ میں تقریباً 8 فیٹ پانی جمع تھا جسے بعد میں نکال لیا گیا ۔
چند زخمی افراد کے مطابق آگ لگنے کی وجہ یہ ہے کہ فیکٹری میں آٹومیٹک جنریٹر چل رہا تھا اور اسی وقت بجلی بھی آگئی جنریٹر کا آٹو میٹک سسٹم کسی وجہ سے خراب تھا اور بند نہ کیا جاسکا اور اس طرح شارٹ سرکٹ ہوگیا ۔
بے بسی کی ایسی انتہاہ تھی کہ جان بچانے کا کوئی راستہ فیکٹری میں موجود نہ تھا ۔ نہ ہی ایسا کوئی نظام موجود تھا جو آگ پر قابو پا سکتا تھا ۔
اس سلسلے میں فیکٹری مالکان کے علاوہ ان تمام افراد کو بھی گرفتار کرنا ضروری ہے جنہوں نے رشوت کی بنا پر ایسی ناقص منصوبہ بندی کے حامل نقشے کو منظور کردیا ۔ اس فیکٹری کی شکل بلکل ایک بلڈنگ کی طرح ہے ، کوئی کھلی جگہ موجود نہیں ہے ۔ عام طور پر ہمیشہ فیکٹریاں اس طرح تعمیر کی جاتی ہیں کہ ایک دروازہ اندر ہوتا ہے اور اس کے آگے کھلی جگہ چھوڑ دی جاتی ہے اور پھر ایک مین دروازہ ہوتا ہے ، اور چاروں طرف دیوار بنادی جاتی ہے ۔
مالکان کے مطابق ان سے پانچ کروڑ روپے بھتہ دینے کو کہا گیا تھا ، اور دھمکی دی جارہی تھی ، شاید یہ آگ انہی بھتہ خوروں نے لگائی ہو ۔ اس بات سے انکار تو نہیں کیا جاسکتا لیکن مالکان کی یہ بات چند باتوں کے بعد کافی حد تک حقیقت نہیں لگتی ہے ۔
مزید اطلاعات ہیں کہ اس فیکٹری میں دو مرتبہ پہلے بھی آگ لگ چکی ہے ، اور ایک بڑی چوری بھی ہوئی ہے ۔
علی انٹرپرائز فیکٹری بلدیہ ٹاؤن نمبر دو میں حب ریور روڈ پر واقع ہے اور تقریباً 2 ایکڑ کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے ۔ سندھ کی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو تین لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں گے جبکہ زخمیوں کو پچھتر ہزار روپے دیئے جائیں گے ۔ عام طور پر یہ رقم صرف اعلان اور چیک تک ہی محدود ہوتی ہے لیکن اگر یہ معاوضہ دے بھی دیا جائے تو کیا اس سے لواحقین کے غم کم ہوسکتے ہیں ؟ نہیں کبھی نہیں ۔ حکومت کو چاہیئے کہ اس واقعہ سے سبق سیکھے اور ایسے اقدامات کرے کہ آئندہ اس طرح کے افسوس ناک واقعہ نا ہوں ۔
اللہ تعالیٰ تمام افراد جو اس حادثہ میں اپنے جان ہار گئے ان کے گناہوں کو معاف فرمائے ، اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے ۔ آمین ۔

1 تبصرہ برائے “کراچی میں پیش آنے والا خوفناک حادثہ”

  1. Huzaifa says:

    Allah hum sab ko apnay hifz-o-zmaan main rakhay, aameen

تبصرہ کریں