بلاگ نامہ

ماہ: September 2012

کھیت کو صاف کرنا ہے یا گندہ ؟

ایک کھیت ہے اس میں اجازت ہے کہ یہاں کوئی بھی آئے ، یہاں کھیتی باڑی کرے یا پہلے سے موجود فصلوں سے فائدہ اٹھائے ۔ ایک دن اچانک سے ایک شخص آتا ہے وہ فصلوں پر کیچڑ پھینک کر چلاجاتا ہے ۔ کچھ لوگ اس کیچڑ کی وجہ سے اس کھیت کو استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اور آگے دیگر لوگوں کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ کھیت سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہم فائدہ اٹھائیں اور اس کھیت کو صاف کریں لیکن انہیں صفائی سے روکا جاتا ہے اور اس طرح کھیت گندہ ہوتا جاتا ہے اور فصلیں تباہ ہوتی جاتی ہیں ۔ اس کھیت سے مراد گوگل ، فیس بک ، یوٹیوب اور دیگر سوشل نیٹ ورکس ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والے ہم لوگ ہیں ، اب فیصلہ آپ کریں کہ آپ کھیت کی صفائی کریں گے اور اس میں دوبارہ سے صاف فصل کے لیئے بیج بوئیں گے یا کھیت کا استعمال چھوڑ کر دوسروں کو بھی تلقین کریں گے کہ نہ استعمال کریں ۔ جاگیں اور اپنی سوچ کو بلند کریں اور ان تمام سروسس کا فائدہ اٹھاکر دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچائیں ۔… مزید پڑھیں »

گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج ضرور لیکن پر امن کیوں نہیں ؟

چند دن پہلے سوشل میڈیا اور دیگر مسلم ممالک میں اچانک توہین رسالت ، گستاخ رسولﷺ کی مرتکب ایک فلم کے خلاف احتجاج میں تیزی آگئی ۔ احتجاج میں اضافہ ہونے کی خاص وجہ یہ ہے کہ فلم کو جب عربی زبان میں ڈب کیا گیا تو مسلمانوں کی سمجھ میں یہ آیا کہ اس فلم میں گستاخی کی گئی ہے ۔ کیا مسلمانوں کو انگریزی میں یہ فلم دیکھنے کے بعد سمجھ نہیں آسکا کہ اس فلم میں گستاخی کی گئی ہے ؟ یا مسلمانوں کو انگریزی میں جو کچھ بناکر دکھادیا جائے مسلمان اسے درست سمجھنے لگتے ہیں ؟ ۔ مسلم ممالک میں جاری احتجاج میں دن بدن تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ سفارت خانوں پر حملے کیئے جارہے ہیں ۔ جبکہ اسلامی قانون کے مطابق سفیر کو حالت جنگ میں بھی جان کی امان حاصل ہوتی ہے ۔ خیر یہ فلم بنائی گئی توہین کی گئی اور اس کے بعد اس فلم کو ابھی تک بند نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ سب مسلمانوں کے خلاف ہے ، اسلام کے خلاف ہے ۔ لیکن کیا بے وجہ کسی سفیر کا قتل وہ مسلم ہو یا نہ ہو دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے ؟… مزید پڑھیں »

کراچی میں پیش آنے والا خوفناک حادثہ

گزشتہ چند روز پہلے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹ فیکٹری بنام ” علی انٹرپرائز گارمنٹ فیکٹری “ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ، اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً تین سو سے زائد افراد شہید ہوگئے ۔ ان شہیدوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ اس فیکٹری میں کپڑا ، دھاگہ اور دیگر سامان خود ہی تیار کیا جاتا تھا ۔ تین منزلہ فیکٹری میں ایک ہی دروازہ تھا باہر جانے کے لیئے اور اسے مالکان کی جانب سے بند کردیا گیا تھا ، جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تنخواہ تقسیم کرنے کا دن تھا اور اس ڈر سے کہ تنخواہ چوری نہ ہوجائے ، دروازہ کو بند کردیا گیا تھا ۔ کچھ مزید سننے کو یہ ملا ہے کہ ایک جگہ اور بھی تھی فیکٹری سے باہر جانے کی لیکن وہاں پر آگ نے قبضہ کر رکھا تھا ۔ دوسرا غضب یہ تھا کہ فیکٹری کی کھڑکیوں کے آگے لوہے کی ” گرل “ لگائی گئی تھی ، اگر یہ ” گرل “ نہ ہوتی تو کئی لوگوں کی جان بچ سکتی تھی ۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شروع میں بھیجے جانے والے فائر فائیٹرز کی زیادہ تر… مزید پڑھیں »